وَ مِنْهُمْ اُمِّیُّوْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ الْكِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِیَّ 'اور ان میں سے کچھ ان پڑھ ہیں، جو کتاب کا علم نہیں رکھتے سوائے چند آرزوئوں کے' اس آیت میں دو لفظ نہایت غور طلب ہیں ایک 'اُمیون'۔ اور دوسرا 'اَمانی' اُمّی کے معنی وہ شخص جو اچھی طرح لکھنا/پڑھنا نہ جانتا ہو۔ امیون 'امی ' کی جمع ہے ۔ یہاں یہ لفظ ان پڑھ اور لا علم کے معنی میں استعمال ہوا یعنی جس حالت میں شکم مادر سے پیدا ہوا جیسے بچہ پیدا ہوتا ہے تو لاعلم ہوتا ہے بالکل اسی طرح اہل کتاب کے لیے بھی اللہ پاک نے یہ لفظ استعمال فرمایا ہے کہ وہ لوگ امی ہیں اپنی کتاب کے بارے میں۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ اپنی کتاب کو اوپر سے دیکھ کر پڑھ نہ سکتے تھے بلکہ ان میں سے کئی اسکے حافظ بھی تھے اور عالم بھی۔ لیکن مسئلہ کیا تھا کہ وہ سمجھتے نہ تھے کتاب کو۔ اب دوسرا لفظ دیکھیں 'امانی' جسکا مطلب آرزو/ گمان/ مفروضے کے ہیں۔ یعنی وہ اپنی کتاب کے بارے میں صرف گمان کرتے تھے مفروضے قائم کرتے تھے،اسکو سمجھ کر نہ پڑھتے تھے۔ مثلاً کوئی اگر انہیں یہ کہے کہ اپنی کتاب کو سمجھ کر پڑھو تو وہ آگے سے کہے کہ ہاں ہاں پتا ہے مجھے جو کچھ اس میں لکھا ہے۔ بس یہی ہوتا ہے گمان قائم کرنا یعنی بِلاتحقیق ایک مفروضہ قائم کرلینا یا کسی سے سن کر کہنا کہ یہی لکھا ہوا ہے اس کتاب میں۔ تو یہ آیت اپکو لگتا ہے کہ صرف یہود و نصاریٰ کیلیئے تھی؟ لیکن قرآن تو ہر زمانے کے ہر انسان کے لیے ہے نا تو آپکو نہیں لگتا کہ یہ آیت ہماری عکاسی بھی کرتی ہے؟ کیا آج کل کے مسلمان ایسے ہی نہیں ہیں؟ قرآن پڑھے بنا کہتے ہیں کہ اس میں ایسا لکھا ہے یہ حکم ہے وغیرہ وغیرہ حالانکہ ایسا نہیں ہے کہ ہم انکی طرح اپنی کتاب کو پڑھنا نہیں جانتے بلاشبہ ہمارے تقریباًسارے مسلمان اپنی کتاب کو اوپر سے دیکھ کر پڑھ سکتے ہیں لیکن اسکو سمجھ کر نہیں پڑھتے نا ہی کوشش کرتے ہیں۔ بس یہ کام تو چند مولویوں کا ہے اور ہم صرف انکی سُن کر آنکھ بند کر کے یقین کر لیتے ہیں جو اس مولوی نے کہا ٹھیک کہا۔ خود کبھی قرآن کو اسکا ترجمہ کے ساتھ نہیں پڑھتے کہ تحقیق ہی کرلیں کہ واقعی جو اس نے کہا ٹھیک بھی ہے کہ نہیں۔ افسوس یہ عمل یہود کا تھا وہ اپنے سرداروں کی بات پر آنکھ بند کرکے یقین کرتے تھے یہی انکا وہم تھا کہ انکی بخشش ہو جانی ہے تو ہماری بھی ہو جائے گی۔ اور یہی حالت آج کل ہماری ہے ہم بھی صرف سکالرز کے بیان سننے پر یقین رکھتے ہیں ہم میں سے بہت کم لوگ ہیں جو قرآن ترجمہ کے ساتھ پڑھتے ہیں اور ان میں سے بھی بہت کم لوگ ہیں جو سمجھ جاتے ہیں اور قرآن میں غوروفکر کرتے ہیں۔ اللہ تعالی ہمارے پورے معاشرے کو اپنے قرآن کی راہ میں لگائے اور قرآن مجید کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین الٰہی آمین
الهيئة العالمية لتدبر القرآن الكريم
9mo agoAl-Baqarah (2:78)
* خاب من تقوَّل على الله بغير علم، وخاض في دينه بالظنِّ، إن ذلك من صفات اليهود فلنُخالف عنها.
* في هذا أعظمُ باعثٍ على طلب العلم من أهله الثقات المأمونين، ألا تراه سبحانه ذمَّ الأميِّين الذين لا يعلمون من كتابهم إلا أكاذيبَ تلقَّفوها من كُبَرائهم، وتخرُّصاتٍ ورثوها عن أسلافهم؟
المصدر: هدايات القرآن الكريم
للمزيد حمل تطبيق تدبر:
https://mssg.me/4lx6w
2 Comments
ماشاء اللہ! یہ ریفلیکشن نہایت گہرائی اور بصیرت سے بھرپور ہے۔ آپ نے اس آیت کو موجودہ دور کے مسلمانوں کے رویوں سے جوڑ کر ہمیں ایک آئینہ دکھایا ہے۔
آپ نے 'اُمیون' اور 'اَمانی' کے معنی کو نہایت خوبصورتی سے واضح کیا اور بتایا کہ یہ صرف ماضی کے اہل کتاب کے لیے نہیں بلکہ آج کے مسلمانوں کے لیے بھی ایک سبق ہے۔ خاص طور پر یہ بات کہ 'ہم صرف سنے سنائے پر یقین کرتے ہیں اور خود تحقیق نہیں کرتے'، ایک تلخ حقیقت کو اجاگر کرتی ہے۔
جزاکم اللہ خیراً کہ آپ نے اس آیت کو ہماری روزمرہ زندگی سے جوڑ کر قرآن کے پیغام کو عملی انداز میں سمجھنے کی دعوت دی۔ دعا ہے کہ اللہ ہمیں قرآن کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری غلطیوں کو معاف کرے۔ آمین!