ہماری پوری زندگی دوسروں کے ساتھ معاملات ميں گزرتی ہے. گھر والے، دوست احباب، ہمسائے، رشتہ دار، کولیگز وغیرہ ان سب کے ساتھ ہمارا ایک تعلق ہوتا ہے، میل ملاپ اور لین دین کے معاملات بھی ہوتے ہیں. لیکن سب کے ساتھ ہماری ذہنی ہم آہنگی نہیں ہوتی. ہمارے ارد گرد کچھ لوگوں ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی طبیعت اور مزاج ہم سے بہت مختلف ہوتا ہے. ہم انہیںavoid بھی نہیں کر سکتے. اور ایسے میں ان کے رویے یا الفاظ سے غلط فہمی کا شکار ہو کر دل ہی دل میں ان سے ناراضگی مول لے لیتے ہیں ۔ ایسی ناراضگی جو دشمنی کی حد تک پہنچ جائے اور دل میں چھپائی جائے اسے عربی زبان میں 'غِلّ' کہا جاتا ہے ۔ کسی سے بیر رکھنا، دل میں اس سے کدورت رکھنا، کینہ پروری، یہ سب غِلّ کے معنی میں آتا ہے. ہماری روز مرہ کی زندگی میں غِلّ کے بیشمار مواقع آتے ہیں ۔ مثال کے طور پر آپ نے اپنے دوست/سہیلی سے کوئی کام کہا اور وہ کسی وجہ سے نہ کر پایا لیکن اس نے ایک دوسرے دوست کا کام کر دیا تو آپ کے دل میں اس کے خلاف میل آ گیا۔ آپ کے کولیگ نے ایک اہم میٹنگ میں آپ کی بات کی تائید نہیں کی حالانکہ آپ نے ہمیشہ ان کا ساتھ دیا تو آپ نے اس بات پر ناراض ہو کر اس سے بغض رکھا ۔ کسی رشتہ دار نے مذاق میں کوئی بات کہی لیکن آپ نے اسے دل پر لے لیا اور اندر ہی اندر نفرت پال لی ۔ یہ ایک انتہائی خطرناک کیفیت ہے جو نہ صرف ہماری اپنی ذات کیلئے نقصان دہ ہے بلکہ ایک مثبت معاشرے کے قیام میں بھی بہت بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ جب کینہ شدت اختیار کر جائے تو آپ دوسرے انسان کو نقصان پہنچانے سے گریز نہیں کریں گے ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بہت پیاری دعا سکھائی ہے: وَلَا تَجْعَلْ فِى قُلُوبِنَا غِلًّۭا لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ رَبَّنَآ إِنَّكَ رَءُوفٌۭ رَّحِيمٌ ( سورة الحشر، آیت 10) اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لیے کوئی کدورت نہ پیدا ہونے دے اے ہمارے رب بیشک تو نہایت شفیق اور رحم فرمانے والا ہے۔ — بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) معاشرتی معاملات اور برتاؤ میں اونچ نیچ ہو جاتی ہے ۔ دوسروں کو benfit of the doubt دیجئے ۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز کیجئے۔ اگر یہ کام مشکل لگے تو اس خوبصورت دعا کا سہارا لیجئے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو اپنے مسلمان بھائی بہنوں کے خلاف بغض اور کینہ سے پاک رکھیں۔ آمین ثم آمین
الهيئة العالمية لتدبر القرآن الكريم
9mo agoAl-Hashr (59:10)
* خاب وخسر من طوى صدره على ذرة بغض لأحد من أصحاب رسول الله ﷺ رضوان الله عليهم أجمعين.
* الغل والحسد وسائر أمراض القلوب إذا غارت جذورها، وتفرعت أشواكها، أذوَت زهراتِ الإيمان، وأذهبت ما توحي به من سلام وتحنان.
* ما أوثقها من أواصر تربط أوَّلَ هذه الأمة بآخرها، وآخرها بأولها، تتخطى الزمان والمكان والجنس والنسب، فيدعو المؤمنُ لأخيه المؤمن بعد قرون متطاولة!
* إنزال الناس منازلهم دلّ عليه الشرعُ والعقل، ولهذا اتفق السلف على تعظيم منزلة الصحابة، وبيان فضلهم.
* لئن فاتك أيها المسلم أن تكونَ من المهاجرين الأولين، أو من الأنصار المحسنين، لا تحرم نفسك من سؤال الله تعالى أن يشملك وإيَّاهم بمغفرته ورضوانه.
* من فضائل الإيمان أن يكون المؤمنون متحابين متعاضدين على قلب رجل واحد، يدعو بعضُهم لبعض، ويحرص
...
7 Comments
Jazakallahu khairan hume ye yaad dilane k liye