کچھ دن پہلے میں اُستاد نُعمان کی ایک ویڈیو دیکھ رہی تھی جس میں وہ ایک آیت کو بیان کرتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے کہ جب اللہ نے یہ فرما دیا ہے کہ قرآن میں ہمارے لیے نصیحت اور شفاء ہے تو پھر آپ کو چاہیے کہ آپ اس زاویے سے قرآن کی آیات کو دیکھنا شروع کریں۔ اب اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ پچھلی قوموں کو ہم نے بھوک اور مصیبت میں مبتلا کیا تاکہ وہ اللہ کے سامنے عاجزی اختیار کریں اور گڑگڑا کر دعائیں کریں۔ تو اُستاد کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے میں نے یہ سبق لیا کہ اپنی زندگی میں آنے والی ہر مصیبت کو میں اب سے یہی سوچ کر ڈیل کروں گی کہ اللہ چاہتا ہے کہ میں اس کے سامنے عاجز ہو جاؤں، اس کے سامنے جھک جاؤں۔ اللہ چاہتا ہے کہ میں اس کے قریب ہو جاؤں۔ یہ میرے لیے ایک گولڈن چانس ہے۔ اللہ مجھے میری موت سے پہلے بار بار دین پہ ثابت قدم ہونے کے مواقع دے رہے ہیں ۔ لیکن جب مصیبت آتی ہے، اور ہم اس کا حل تلاش کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں، تو سب سے پہلے قرآن ہماری روزمرہ کی زندگی سے کیوں نکل جاتا ہے؟ صبر تو صدمے کی پہلی چوٹ پر کیا جاتا ہے، تو پھر صدمے کی پہلی چوٹ پر ہی صبر کا دامن کیوں چھوٹ جاتا ہے؟ قرآن میں ہمارے لیے شفا اور نصیحت ہے، تو جب بھی ہمیں نصیحت کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، ہمارا دھیان باقی تمام آپشنز کی طرف ہی کیوں جاتا ہے؟
اس لیے کہ شیطان کو پتہ ہے کہ یہ سب ہمارے 'گولڈن چانسز' ہیں — وہ مواقع جن سے ہم بہت زیادہ اجر حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی لیے وہ سب سے پہلے ہمارا دھیان ان ہی چیزوں سے ہٹا دیتا ہے۔ ہمارا ازلی دشمن ہم سے ہمارے قیمتی مواقع ضائع کروا دیتا ہے۔
تو ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ذہن کو اس کے وار سے پہلے ہی تیار رکھیں — تاکہ ہم اصل حل کو اپنا سکیں اور وہ نہایت قیمتی لمحے ضائع نہ ہوں جن میں اللہ کا قرب سب سے زیادہ ممکن ہوتا ہے۔
1 Comment
ماشاءاللہ، یہ تدبر نہایت بصیرت ہے۔
اللہ آپ کے دل میں یہ روشنی ہمیشہ قائم رکھے، اور آپ کو ہر آزمائش میں اس بصیرت کے ساتھ ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اللّٰهم اجعل القرآن ربيع قلوبنا ونور صدورنا وجلاء أحزاننا وذهاب همومنا۔