دن 4: الفاظ کا زاویہ
پانچ زاویوں میں سے پہلے زاویے کی تفصیل سمجھانے اور چند مثالیں پیش کرنے سے پہلے، میں تمہید کے طور پر چند باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔
"زاویہ کیا ہے؟"
ہم ہر زاویے کو ایسے سوالات کا مجموعہ سمجھ سکتے ہیں جن کی مدد سے ہم قرآن کے متن کو دیکھتے اور اس پر غور و فکر کرتے ہیں۔ ہمیں سوال اٹھانے اور جاننے کی جستجو رکھنے کی عادت اپنانی چاہیے۔ ساتھ ہی یہ بھی سیکھنا ہوگا کہ اپنے سوالات کے جواب کیسے تلاش کیے جائیں، اور یہ ضروری نہیں کہ ہر بار ایک ہی حتمی جواب ملے۔
سب سے پہلے تو ہمارے پاس اسلامی علمی روایت کا ایک وسیع ذخیرہ موجود ہے جس سے ہم استفادہ کر سکتے ہیں۔ لیکن ہر شخص ان کتابوں تک رسائی کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ پھر ان میں ہزاروں سوالات کے جواب ہونے کے باوجود نئے سوالات ہمیشہ پیدا ہوتے رہتے ہیں، خصوصاً اس دور میں جب وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ اس لیے ہمیں ایسے علمی وسائل اور سوال و جواب کے ذرائع کی ضرورت ہے جو مسلسل رہنمائی کرنے والے ہوں۔
"کیا میں خود بھی سوالات کے جواب دے سکتا ہوں؟"
ہمارا پہلا زاویہ خود قرآن کے متن سے متعلق سوالات پر مبنی ہے، جبکہ باقی زاویوں میں علم کے دوسرے شعبوں سے مدد لی جاتی ہے۔ کچھ سوالات کا جواب دینے کی صلاحیت ہم میں سے ہر ایک رکھتا ہے، جبکہ کچھ کے لیے خصوصی علم درکار ہوتا ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ ہم خود پہچان سکیں کہ ہم کسی سوال کا جواب دینے کے اہل ہیں یا نہیں۔ اور اگر ہمارے پاس کوئی جواب ہو تو یہ بھی دیکھ سکیں کہ وہ مضبوط بنیادوں پر قائم ہے یا محض ایک قیاس ہے۔ قیاس کرنا لازماً بری بات نہیں، اس پر ہم دوسرے زاویے میں مزید بات کریں گے۔
"کیا الفاظ کے زاویے سے فائدہ اٹھانے کے لیے عربی جاننا ضروری ہے؟"
جب آپ "الفاظ" کا لفظ سنتے ہیں تو آپ کا ذہن عربی زبان کی طرف جاتا ہوگا، اور یہ بالکل درست ہے۔ اس زاویے میں ہم ایسے سوالات پر غور کرتے ہیں کہ کوئی بات کیوں کہی گئی اور کیوں نہیں کہی گئی، اور اسے بیان کرنے کے لیے یہی الفاظ اور یہی اسلوب کیوں اختیار کیا گیا۔
لیکن یہ سوچ کر پیچھے ہٹنے کی ضرورت نہیں کہ ہم عربی نہیں جانتے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ ایسا زاویہ ہے جس سے ہر شخص فائدہ اٹھا سکتا ہے، ان لوگوں سمیت جنہیں عربی سیکھنے کی نعمت اور موقع نہیں ملا۔
تاہم، ہمیں اس حقیقت سے بھی نظریں نہیں چرانی چاہییں کہ قرآن کی زبان سے ناواقف ہونے کی صورت میں ہمارے غور و فکر کے امکانات محدود ہو جاتے ہیں۔ اگر ہم صرف تراجم پر انحصار کریں تو اس کا امکان زیادہ ہے کہ ہم ایسی چیز دیکھ بیٹھیں جو متن میں ہے ہی نہیں، یا ایسی بات نظر انداز کر دیں جو متن میں موجود ہے۔
قرآن سے تعلق کے کسی بھی دوسرے طریقے سے پہلے ہمیں قرآن کو اپنے مالک کے کلام، یعنی اس کے الفاظ، کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ جب ہمیں ان الفاظ کی کچھ سمجھ حاصل ہو جائے تو پھر ہم ان پر ان کے سیاق و سباق میں غور کر سکتے ہیں اور انہیں دوسری باتوں سے جوڑ کر سمجھ سکتے ہیں۔
لہٰذا اسے عربی زبان سیکھنے کی ترغیب سمجھیں اور جس طرح بھی ممکن ہو، اس زبان کو سیکھنے کی کوشش کریں۔ آج ہی پہلا قدم اٹھائیں، اللہ ﷻ آپ کے لیے آگے بڑھنے کے دروازے کھول دے گا۔
اگلے سبق میں ہم الفاظ کے زاویے کو استعمال کرنے کے مختلف طریقوں کا جائزہ لینا شروع کریں گے، چاہے عربی زبان کے ذریعے ہو یا تراجم کی مدد سے۔ إن شاء الله
1 Comment
Good work