يہ زندگی بھی کتنی عجیب ہے. ہمیں دیوانہ بنائے رکھتی ہے. ہم اپنے چھوٹے بڑے خوابوں کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں. انہیں پورا کرنے کیلئے تگ و دو میں رہتے ہیں ..... کلاس میں فرسٹ آنے کا خواب ..... بہترین یونیورسٹی میں داخلے کا خواب ..... اپنی من پسند جاب کا خواب ..... اچھے جیون ساتھی کا خواب ..... کھلکھلاتے مسکراتے بچوں کا خواب ..... بچوں کو کامیاب دیکھنے کا خواب تو کیا خواب دیکھنا بری بات ہے؟ نہیں تو، لیکن ان کے پیچھے خود کو ہلکان نہیں کرنا چاہیے. جو خواب پورے ہو گئے، الحمد للہ، اس پر اترائیں مت اور جو ادھورے رہ گئے، الحمد للہ علی کل حال، کہ یہ سب میرے رب کی حکمت ہے. ادھورے خوابوں کو اپنا روگ نہ بنائیں. اس پر غم نہ کریں. کوئی اوپرٹیونٹی ہاتھ سے نکل گئ، اس پر افسردہ مت ہوں کہ یہ تو اللہ الرحمن الرحیم نے پہلے سے آپ کے نصیب میں لکھا ہوا تھا کوئی مصیبت ایسی نہیں ہے جو زمین پر یا تمہارے اپنے نفس پر نازل ہوتی ہو اور ہم نے اس کو پیدا کرنے سے پہلے ایک کتاب میں لکھ نہ رکھا ہو. ایسا کرنا اللہ کیلئے بہت آسان کام ہے یہ سب کچھ اس لیے ہے) تاکہ ) جو کچھ بھی نقصان تمہیں ہوا ہو اس پر تم دل شکستہ نہ ہو اور جو کچھ اللہ تمہیں عطا فرمائے اس پر پھول نہ جاؤ. اللہ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے ہیں اور فخر جتاتے ہیں.( الحدید :22-23) - ترجمہ : تفہیم القرآن - سید ابو علی مودودی
Amr Lotfy
6y agoAl-Hadid (57:22-23)
كل شيء تم كتابته في اللوح المحفوظ قبل خلق السموات و الأرض بخمسين ألف سنة ، و ما أصابك من حسنات أو سيئات هو سؤال في ورقة امتحانك فلا تضيع وقت الامتحان في الفرح أو الحزن على السؤال شمر عن ساعد الجد لتضع أفضل الإجابات و إن أخطأت فلا تكرر نفس الخطأ و إن أصابك بلاء فاعلم أنه بذنب و لا يرفع البلاء إلا بالتوبة
3 Comments
ماشاءاللہ۔ آیات کا چناؤ اور آپکے الفاظ دونوں ہی دل کی تہہ تک اترنے والے ہیں۔ اللہ آپ کے فہم قرآن میں مزید اِضافہ فرمائے اور ہمیں اپنے کلام کا ادراک نصیب فرمائے۔ آمین