ٹوئٹر پر ایک مختصر عکاسی میری نظر سے گزری : 'قرآن شاید دیکھنے میں بے ترتیب لگے لیکن آسمان کے ستارے بھی ایسے ہی ہیں ۔ ان سے اچھی طرح واقفیت کے بعد ہی آپ بُرجوں( constellations) کو پہچان سکیں گے' ۔ یہ بات میرے دل کو لگی اور میرے ذہن میں سورہ واقعہ کی وہ آیات آئیں جہاں اللہ تعالیٰ نے ستاروں کے جھرمٹ (مواقع النجوم) کی قسم کھا کر قرآن کی عظمت اور لوح محفوظ کے تقدس کا اظہار کیا، جہاں سے اسے آہستہ آہستہ نازل کیا گیا تھا۔ تقريبا تمام مترجمين قرآن نے اس سے مراد 'ستارے' ہی لیے ہیں، یعنی افق پر ستاروں کی ترتیب یا ان کے ڈوبنے کا مقام ۔ میں نے بھی اس سے یہی مراد لی ہے البتہ محمد اسد نے اس کا ایک اور مطلب بھی بیان کیا ہے، جیسے :' میں قسم کھاتا ہوں حصوں میں نازل ہونے کی'۔ لفظ 'نجم' کا ایک مطلب 'اقساط' بھی ہو سکتا ہے( جیسے ادائیگی کی اقساط) ۔ لہٰذا یہ اس بات کی طرف اشارہ کر سکتا ہے کہ قرآن انسانی ضروریات اور سوالات کے جواب میں چھوٹے چھوٹے حصوں میں نازل ہوا ۔ ستاروں کا ٹھراؤ اور حرکات بھی لوح محفوظ سے قرآن کی زمین پر منتقلی کی علامت ہوسکتی ہے ۔ سوچ کے اس پہلو سے میری عقل بالکل دنگ رہ گئی کہ یہ قَسم واقعی کتنی عظیم ہے ۔وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِيْمٌ۔ کیونکہ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ قرآن کی سورتیں آیات کا جھرمٹ ہیں جو ہمیں ایک ترتیب کے ساتھ نظر آتی ہیں حالانکہ ان کا وقت اور مقام نزول مختلف تھا ۔ اس بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے: اب ہم سمجھتے ہیں کہ بُرج بھی ایسے ہی ہیں، یہ ستاروں کی تشکیل کے سادہ مرکبات نہیں ہیں جیسے کہ وہ زمین سے ہمیں دکھائی دیتے ہیں۔ ایک ہی برج میں، کچھ ستارے بہت دور ہوتے ہیں اور ان کی روشنی کو ہم تک پہنچنے میں زیادہ وقت لگتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ان کی تشکیل ہمیں ہم آہنگ نظر آتی ہے۔ میں یہ عکاسی تقریباً رمضان المبارک کے موقع پر شیئر کر رہا ہوں، قرآن کا تہوار – نزول کا جشن! اللہ ہمارے دلوں کو اپنے کلام سے منور کرے اور ہمیں دنیا و آخرت میں بلند کرے۔

یہ ترجمہ شیخ صہیب سعید کی عکاسی پر مبنی ہے ۔ اصل تحریر کا لنک :

https://quranreflect.com/posts/6769

·

3 Comments

to comment on this Reflection

انتہائی خوبصورت

Related Reflections