(12:28) پھر جب اس نے دیکھا کہ اس کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہے تو اس نے کہا، یہ تم عورتوں کی چالوں میں سے ایک (چال) ہے. واقعی بڑے غضب کی ہوتی ہیں تم عورتوں کی چالیں۔ ﹏﹏﹏﹏﹏﹏﹏﹏﹏﹏﹏﹏﹏﹏﹏﹏﹏﹏﹏﹏﹏﹏ نوٹس :۔ سیاق یہ بتاتا ہے کہ وہ عزیز مصر ہی تھا جس نے یہ دیکھا اور بولا تھا لہذا اُس کے الفاظ کو ایک انسان، ایک شوہر اور ایک سیاستدان کے تناظر میں پرکھنا چاہیے۔لفظ 'کَیدِکُنَّ' میں جمع مؤنث حامل ضمیر کا صیغہ ہے، اس لئے ترجمے میں 'تم عورتوں کی' استعمال کیا گیا ہے جیسا کہ وہ اپنی بیوی کے اعمال کو اس کی پوری جنس سے منسوب کرتا ہے یا اپنے ذہن میں موجود خواتین کے کسی خاص زمرے سے۔ ہم نے حرف 'مِنْ' کو 'تَبْعِیضِيَّة' /( جزوی) طور پر لیا ہے حالانکہ اس کی وضاحت اس غلط کام یا اس کے جھوٹے الزام کے ماخذ کے طور پر بھی کی گئی ہے۔ یہ ترجمہ فائیو لینزز اردو پلان ( تدبر کے پانچ زاویے) کے طلباء کی سہولت کے لیے کیا گیا ہے۔ اصل تحریر کا لنک

https://quranreflect.com/posts/15553

·

Comments

to comment on this Reflection
Be the first to comment on this post!

Related Reflections