پچھلے ہفتے میرا نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لئے مسجد جانا ہوا۔ ابھی خطبہ شروع ہونے میں کچھ وقت تھا. خطیب نے وقت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ وعظ کیا۔ ان کا موضوع تھا 'خوشگوار ازدواجی زندگی' ۔ 'مرد کو اپنا گھر آباد رکھنے کیلئے بہت سی چیزیں نظر انداز کرنی چاہئیں، اسے خندہ پیشانی سے پیش آنا چاہیے' ۔ ارے، یہ کہا خطیب نے؟ 'اس کی مردانگی کا تقاضا ہے کہ وہ بیوی کی کوتاہیوں سے درگزر کرے' ۔ کیا؟ یہ خطیب صاحب کس دنیا کی بات کر رہے ہیں؟ یہاں تو ایسا نہیں ہوتا۔ ہمارے معاشرے میں ایسی نصیحتیں تو صرف خواتین کو کی جاتی ہیں اپنا گھر آباد رکھنے کیلئے ۔ میں نے پہلی بار کسی کو مردوں کیلئے ایسی نصیحت کرتے سنا۔ کتنی اچھی بات کی تھی خطیب نے ۔ یہ باتیں جو ہمیں ہمارے پیارے نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اپنے کردار اور عمل سے کئی صدیوں پہلے سکھائیں تھیں۔ پھر ہم کیوں یہ سب کچھ بھولے بیٹھے تھے؟ ہم نے 'خیرکم خیر لأھلکم' کو چھوڑ کر شوہر کا بیوی پر رعب جھاڑنا اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ کرنا مردانگی کا معیار ٹھہرایا۔ وَمِنْ ءَايَـٰتِهِۦٓ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَٰجًۭا لِّتَسْكُنُوٓا۟ إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةًۭ وَرَحْمَةً ۚ اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے پیدا کیے تمہارے لیے تمہاری نوع میں سے جوڑے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور اس نے تمہارے مابین محبت اور رحمت پیدا کردی... اللہ تعالیٰ نے جس مقصد کیلئے شوہر اور بیوی کا رشتہ بنایا ہم وہی بھول گئے؟ اس رب نے تو دونوں کے دلوں میں محبت اور رحمت ڈالی تھی لیکن رویوں کی سختی کی وجہ سے ان کی جگہ بےسکونی اور تلخیوں نے لے لی۔ رشتوں میں سکون پانے کیلئے پہلے سکون دینا پڑتا ہے۔ حلم اور رواداری سے کام لینا پڑتا ہے۔ کچھ چیزیں نظر انداز کرنی ہوتی ہیں۔ مزاج میں نرمی لانی ہوتی ہے اور یہ کام شوہر اور بیوی دونوں کا ہے۔ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَٰجِنَا وَذُرِّيَّـٰتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍۢ وَٱجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا اے ہمارے رب ، ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پرہیز گاروں کا امام بنا۔ آمین
Yaseen Aliraqi
1y agoAr-Rum (30:21)
آية تتدفق على الروح كما يتدفق النور على قلب غارق في العتمة. ليست مجرد بيان لعلاقة بين ذكر وأنثى، بل كشف عن سرٍّ أعمق: أن الإنسان مخلوق نصفٌ يبحث عن نصفه، وأنه لا يكتمل إلا في الآخر. 'لتسكنوا إليها'... السكن هنا أوسع من الجسد، إنه عودة الروح إلى مأمنها، واستقرار القلب بعد التيه، واطمئنان الكيان إلى مرآته الحقيقية. ثم تأتي المودة والرحمة كمعمار داخلي، يربط الأرواح بما هو أبقى من لذة أو نزوة: صداقة عميقة، عطف متبادل، حنان يقيم حين ينكسر كل شيء آخر. لم يقل النص 'حبّاً' بل اختار 'مودةً ورحمة'، لأن الحب قد يشتعل ثم يخبو، أما المودة فهي حرارة تلازم القلب، والرحمة هي يد تمتد حين يعجز الجسد أو يبهت الشعور. هكذا يتحوّل الزواج من عقد اجتماعي إلى آية كونية، من عادة يومية إلى سرّ إلهي، من عيش مشترك إلى
...
5 Comments
آمین۔ جزاک اللہ خیراً!