میری بیٹی کے سکول میں سپورٹس ڈے تھا. سب بچے بہت پرجوش تھے۔ اتنے عرصے سے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے بالآخر وہ سپورٹس ڈے کی فائنل دوڑ کے مقابلے تک پہنچے تھے۔ وہاں پر دو طرح کے رنرز تھے، ایک سپرنٹرز اور دوسرے میراتھون رنرز۔ سپرنٹرز بہت تيز رفتار ہوتے ہیں اور وہ زیادہ تر چھوٹے فاصلوں والی دوڑ میں سب سے آگے ہوتے ہیں لیکن وہ زیادہ لمبی دوڑ میں کامیاب نہیں ہوتے، کیونکہ وہ اپنی ساری توانائی تیز رفتاری میں خرچ کر دیتے ہیں اور جلد تھک جاتے ہیں ۔ دوسری طرف میراتھون رنرز بہت تيز رفتار نہیں ہوتے لیکن اپنی توانائی کو لمبی دوڑ میں برقرار رکھ سکتے ہیں اور زیادہ تھکے بغیر لمبی دوڑ لگا سکتے ہیں ۔ اس دن وہاں بھی کچھ ایسا ہی ہوا. جو بچیاں ١٠٠ میٹر کی دوڑ میں سب سے آگے تھیں، ٦٠٠ میٹر کی دوڑ میں وہ سب سے پیچھے رہ گئیں ۔ ایک اورقابل غور بات جو میں نے نوٹ کی کہ ٦٠٠ میٹر کی دوڑ کے شروع میں دو بچیاں سب سے آگے تھیں یہاں تک کہ ان میں اور باقی بچیوں میں تقریباً ٥٠ میٹر کا فاصلہ تھا، پھر رفتہ رفتہ ان میں سے ایک بچی کی رفتار کم ہوتی چلی گئی اور وہ کافی پیچھے رہ گئ لیکن دوسری بچی نے اپنی رفتار بدستور برقرار رکھی۔ دیکھنے والوں کا خیال تھا کہ عنقریب یہ بھی تھک کر آہستہ ہو جائے گی اور پیچھے رہ جائے گی لیکن اس بچی نے سب کا قیاس غلط ثابت کیا اور اپنی رفتار کو مسلسل برقرار رکھتے ہوئے باقی سب سے نمایاں برتری حاصل کی۔ آپ نے غور کیا کہ ایسا کیوں ہوا؟ وہ بچی باکی سب کی طرح تھک کر پیچھے کیوں نہیں رہی؟ کیونکہ اسے عادت تھی اتنی لمبی دوڑ لگانے کی۔ کیونکہ وہ مسلسل اپنی کارکردگی پر کام کر رہی تھی، اس نے اپنی توانائی کو فاصلے کے حساب سے ایک تناسب سے تقسیمِ کیا تھا، نہ اتنی تیز کہ بہت جلدی تھک جائے اور نہ اتنی آہستہ کہ سب سے پیچھے رہ جائے۔ یہ تناسب ایک دن، ایک ہفتے، ایک مہینے میں نہیں آجاتا۔ یہ ہر روز گاہے بگاہے سیکھنا پڑتا ہے، پورا سال جدوجہد جاری رکھنی پڑتی ہے۔ ایسی کارکردگی پورا سال مسلسل محنت مانگتی ہے ۔ آپ نے کبھی سوچا جو میری اور آپ کی کارکردگی کا حال ہوتا ہے رمضان میں، کیا وہ ایک سپرنڑر کی مانند ہے یا ایک میراتھون رنر کی مانند؟ کیا ہم ماہ رمضان میں خوب تيز رفتاری دکھاتے ہیں، قرآن پہ قرآن ختم کرتے ہیں، نوافل پہ نوافل ادا کرتے ہیں، پوری پوری رات جاگ کر عبادت کرتے ہیں اور پھر رمضان ختم ہوتے ہی تھک کر بیٹھ جاتے ہیں یا پھر ہم ایک مناسب انداز میں سب عبادات کرتے ہیں اور رمضان کے مہینے کے بعد بھی اپنی کارکردگی کو برقرار رکھتے ہیں یہاں تک کہ اسی مستقل مزاجی کے ساتھ اللہ کی رضا سے اگلا رمضان پا لیتے ہیں؟ آپ خود بتائیں ان دونوں میں سے کس کا کارکردگی میں آگے بڑھنے کا چانس زیادہ ہے؟ کون اگلے رمضان میں پچھلے رمضان کی نسبت بہتر کارکردگی دکھائے گا؟ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں روزے رکھنے کا مقصد تقوی بیان فرمایا ہے۔ تو کیا تقویٰ صرف رمضان کے مہینے تک محدود ہے؟ ایسا بالکل نہیں ہے، تقوی کو تو سال بھر مینٹین رکھنے کی ضرورت ہے ۔ اہل علم کہتے ہیں کہ رمضان ایک مؤمن کا ٹریننگ گراؤنڈ ہے ۔ یہاں سے جو ٹریننگ لی جاتی ہے اسے سال بھر اپنے عمل میں شامل کرنے کی حکمت عملی اپنانی چاہیے اور یہ کام وہی کر سکتا ہے جو میراتھون رنر کی طرح لمبی دوڑ لگانے کا عادی ہو ۔ اس ماہ مبارک میں جب آپ اور میں داخل ہوں تو اس نیت کے ساتھ کہ یہاں سے جو ٹریننگ ہم لیں گے اسے حتی الامکان اپنی مسلسل کارکردگی کا حصہ بنائیں گے، اتنی تیز رفتاری نہ دکھائیں کہ جلدی تھک کر اپنی ساری ٹریننگ کو ضائع کر دیں بلکہ ایک مناسب انداز میں اپنی رفتار پر بھی کام کریں اور اپنی توانائی بھی برقرار رکھیں ۔ اللّٰهُمَّ بَلِّغْنَا رَمَضَانَ بِالصِّحَّة وَ العَافِيَةِ وَ الإِيمَانِ ۔ آمین يا رب العالمين
Mostafa Abdelader
2y agoAl-Baqarah (2:183)
صوم شهر رمضان من كل عام هو الصوم المفروض على المسلمين، بالإجماع. ويكون بالإمساك والامتناع عن المفطرات من طلوع الفجر حتى غروب الشمس، وهو أحد أركان الإسلام الخمسة، وهو من أحب الأعمال إلى الله- جل وعلا في علاه -؛ نسبةً إلى الحديث القدسي : «وما تقرب إلي عبدي بشيء أحب إلي مما فرضت عليه»، حيث أن أداء الفرائض أحب الأعمال إلى الله عز وجل .وفرض
3 Comments
آمين يا رب. بارك الله فيكم