بسم اللہ الرحمٰن الرحیم السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ اس ایت کو پڑھ کر اس قدرحیرت ہوئی کہ وہ نوجوان کئی سال بعد اٹھے ہیں اس بات سے بے خبر کہ جس فتنے سے بچنے کے لیے وہ تدبیر کر رہے ہیں وہ تو الله تعالٰی نے پہلے ہی ختم کر دیا تھا یہ آیت ہمارا مینٹ سیٹ بنا رہی ہے ہماری زندگیوں میں بھی ایسے ہی حالات آتے ہیں جب فتنے اس قدر بڑھ جاتے ہیں کہ کہیں کوئی جائے پناہ نظر نہیں آتی اس صورت میں ہمیں اس بات کا یقینی علم ہونا چاہیے کہ ہمارے پاس اب دو ہی راستے ہیں ڈٹ جائیں اور ہر طرح کی لعنتان برداشت کرے کچھ بھی ہو جائے قدم پیچھے نہ لیں اور دوسرا راستہ یہ ہے کہ ہم بھی لوگوں کی باتوں سے تنگ آکر ان کے ساتھ جاملیں اور ان کی سختیوں سے بچ جائیں مگر اس صورت میں ہم کبھی فلاح نہیں پاسکتے کیونکہ یہاں اصل امتحان ایمان کا ہوتا ہے اگر انسان پہلے ہی سوچنے لگے کہ میں ان کا سامنا نہیں کرسکتا تو اس نے اپنے اوپر رحم کے دروازے خود ہی بند کر لیے لیکن اگر وہ ڈٹنے کا سوچ لے تو پھر مددرب کی طرف سے آتی ہے بے شک ہمارےرب نے آسانی پہلے ہی طہ کر دی ہوتی ہے اور رب کی طرف سے دی گئی پہلی آسانی یہ ہے کہ رب نے اسے صحیح راستے کا انتخاب کرنے کے قابل بنایا اللہ تعالی ہمیں ایمان پر ثابت قدمی عطا فرمائیں آمین ثم آمین

·

2 Comments

to comment on this Reflection
Faryal Riaz11mo ago

Really needed to hear that.

Related Reflections