بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں ناگوار ہو اور وہی تمہارے لیے بہتر ہو اور ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند ہو اور وہی تمہارے لیے بری ہو اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے — تفہیم القرآن - سید ابو الاعلیٰ مودودی انٹر نیٹ پر میری نظر سے ایک جملہ گزرا، جس سے مجھے یہ آیت یاد آگئی۔لکھا تھا، 'God breaks your plan, before your plan breaks you.' اگر کبھی ہماری مانگی ہوئی دعائیں پوری ہوتی دکھائی نہ دیں تو ہم مختلف قسم کے ردعمل دے سکتے ہیں۔ ہم دل برداشتہ ہو جاتے ہیں۔ شاید مایوس بھی ہو جائیں۔ لیکن اس آیت کی رو سے، کچھ دعاؤں کا قبول نہ ہونا اصل میں ہمارے لیے بہتر ہے، اس کی نسبت کہ وہ دعائیں قبول ہو جائیں۔ اللّٰہ تعالیٰ جانتے ہیں اور ہم نہیں جانتے۔ کیا یہ کافی نہیں کہ صرف اس پہ بھروسا کیا جائے کہ جو کچھ اللّٰہ نے لکھ دیا ہے اور جو وقت مقرر کر دیا ہماری دعا کی قبولیت کے لیے، وہی بہترین ہے۔ چاہے وہ ہماری سمجھ میں آئے یا نہ آئے، یہ ضروری نہیں۔ ہماری عقل، شعور، سمجھ بوجھ اور علم انتہائی محدود ہے۔ شاید اس زندگی میں ہم کبھی نہ جان سکیں کہ کچھ دعائیں پوری کیوں نہیں ہوئیں۔ اس کے بر عکس یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی دعا قبول ہو جائے، کوئی خواہش پوری ہو جائے لیکن اس میں ہمیں آسودگی نصیب نہ ہو۔ وہ ایک آزمائش بن جائے۔ بعض اوقات کچھ حقیقتیں اگر ہم پر افشاں کر دی جائیں، تو ہم کبھی ان کی دعا نہ کریں۔ کیونکہ ہم 'نہیں جانتے'۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے۔ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ اے اللّٰه! بے شک میں آپ سے دنیا اور آخرت کی عافیت اور بخشش مانگتا ہوں۔ (Jam’i At-Tirmizi | Vol.

| Book

| Hadith : 145) دعا مانگتے رہنا چاہیے اور ان کی قبولیت کے لیے اللّٰہ پر مکمل بھروسا رکھنا چاہیے۔ کیونکہ اللّٰہ جانتا ہے اور ہم نہیں جانتے۔

·

2 Comments

to comment on this Reflection

Ma shaa Allah so well written, if only we could follow this, our lives and our hearts would feel contented and at peace..

Related Reflections