بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم یہاں پر اس آیت میں اگر غور کیا جائے تو زکر ایمان والوں کا ہوا ہے یہاں صرف یہ بھی تو ہو سکتا تھا یاایھاالناس ( اے لوگو!) صبر اور نماز سے مدد لو لیکن یہاں ایمان والوں کا زکر کیا گیا کیوں؟؟ کیونکہ ایمان والوں کا ہی تو ٹیسٹ لیا جاتا ہے آزمائشیں ایمان والوں پر ہی تو آتی ہیں
أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ
ترجمہ: کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ یہ کہہ دینے سے چھوڑ دیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے، اور انہیں آزمائش میں نہ ڈالا جائے گا؟ العنکبوت (آیت نمبر
#2)
ایمان والوں سے ان کے ایمانی لیول کا ٹیسٹ لیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ ایمان والوں سے فرما رہے ہیں صبر اور نماز کے ذریعے مدد حاصل کرو۔۔۔
نماز کے ذریعے کیوں ہم ویسے بھی تو اللہ سے دعا کر سکتے ہیں ویسے بھی تو اپنی مشکلات کے حل کے لیئے اللہ تعالیٰ سے دعا کر سکتے ہیں لیکن یہاں نماز کا زکر کیوں ہے کیونکہ نماز ہی وہ ذریعہ ہے جس سے انسان ڈائریکٹ اللہ سے ہمکلام ہوتا ہے اللہ اور بندے کے درمیان کوئی تیسرا نہیں ہوتا نماز ہی اللہ اور بندے کے درمیان ایک مضبوط تعلق ہے جہاں وہ اپنے رب کو کھل کر اپنی ہر بات بتا سکتا ہے اپنا ہر غم بتا سکتا ہے اس کے اندر یہ احساس اجاگر ہوتا ہے کہ مجھے کوئی سن رہا ہے مجھے کوئی دیکھ رہا ہے کوئی ہے جو مجھے اپنے دل کے بہت قریب محسوس ہو رہا ہے اسے یہ احساس ہوتا ہے کوئی تو ہے جو میری پکار سن رہا ہے اور میری پکار کا جواب دے رہا ہے میرے دل کا وہ حال جو میرے قریب ہوتے ہوئے میرے ساتھ ہوتے ہوئے بھی جو لوگ نہیں دیکھ سکے لیکن وہ جانتا ہے وہ دیکھ رہا ہے دل جب درد کی شدت سے پھٹ رہا ہو آنکھوں سے صرف آنسو رواں ہوں کون ہے جو اس لمحے میرے دل کو سکون دیتا ہے میرے آنسوؤں کو بہت لاڈ اور پیار سے صاف کرتا ہے وہ اللہ ہے وہ جو مجھے پانچ وقت خود بلاتا ہے یہ نماز ہی تو ہے جس کے ذریعے انسان کا اپنے رب کے ساتھ بہت strong connection بن جاتا ہے۔۔۔۔اسی لیئے اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو راستہ بتایا ہے غموں میں مبتلا بھی وہی کرتا ہے تاکہ بندہ اپنے رب کے قریب رہے اور نکلنے کا راستہ بھی خود ہی بناتا ہے اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو یہ راستہ دکھایا کہ صبر اور نماز کے ذریعے مدد طلب کرو صبر اس وقت جب حالات نا ممکن لگ رہے ہوں اور یقین ہو کہ وہ جس کے لیئے سب کچھ ممکن ہے وہ ناممکن کو ممکن بنانے پر قادر ہے صبر جب ہر طرف اندھیرا چھایا ہو اور یقین ہو اس اندھیرے سے ہی ایک روشنی پوٹھے گی جس طرح دن کے بعد رات آتی ہے اندھیرا چھا جاتا ہے اور پھر اسی اندھیرے کے بعد ایک صبح روشن ہو جاتی ہے صبر کہ جب کوئی سننے والا نہ ہو دل بے حد تکلیف میں مبتلا ہو اور یہ ہو کوئی تو ہو سننے والا کوئی تو ہو دلاسہ دینے والا لیکن کوئی نہیں آتا کوئی سمجھ نہیں پاتا یقین ہو کہ اللہ میرے بہت قریب ہے وہ مجھے سن رہا ہے۔۔ صبر کہ جب رات کے اندھیرے میں اکیلے بیٹھ کر درد سے روح چیختی ہے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اب بس جان نکل گئی ہے لیکن جان نہیں نکلتی درد باقی رہتا ہے
ان سب حالات میں جب صبر آ جاتا ہے تو یہ صبر یقین میں ڈھل جاتا ہے یقین آ جاتا ہے ہاں کوئی نہیں ہے لیکن اللہ ہے جو ہر وقت میرے ساتھ ہے ہر وقت مجھے سنتا ہے کبھی تھکتا نہیں کبھی دھتکارتا نہیں کبھی یہ نہیں کہتا کہ تمہارا تو کام ہے رونا بلکہ سنبھال لیتا ہے آنسوؤں کی بہت قدر کرتا ہے جو صرف اس کے سامنے اس کے در پر بہائے جاتے ہیں ایسے صبر کرنے والے لوگوں کے لیئے خوشخبری ہے اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے جب پوری کائنات کا مالک کن فیکوں کا مالک ساتھ ہے یہ یقین ہے تو پھر کسی اور کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی انسان کا تعلق جب اس کے رب سے مضبوط ہو جاتا ہے وہ سیکھ جاتا ہے اپنی ہر مشکل میں اسی سے مدد طلب کرنا اپنا ہر غم اسی کو بتانا ایون کہ ہر چھوٹی سے چھوٹی بات انسان صرف اور صرف اللہ تعالیٰ سے کرنے کا عادی ہو جاتا ہے تو کیا یہ کافی نہیں کہ اللہ ہے ہمارے ساتھ ہے الحمدللہ اس کے علاوہ صبر کرنے والوں کا انعام دنیا میں بھی کامیابی اور آخرت میں جنت کے باغ اللہ تعالیٰ ہمیں صبر کرنے والے اور اپنا شکر کرنے والے بندوں میں شامل فرمائے آمین
Comments