اکثر جب ہمیں کوئ بات بہت پریشان کر رہی ہوتی ہے تو ہم اپنا ذہن بھٹکانے کیلیے اور اسے پر سکون کرنے کیلیے مختلف چیزوں کا سہارا لیتے ہیں۔ کبھی دوستوں کے ساتھ باتیں کرنے لگ جاتے ہیں، کبھی فون پہ سکرولنگ اور کبھی خود کو مختلف کاموں میں مصروف کر دیتے ہیں۔ کچھ دیر کیلیے ہم بہتر تو محسوس کرتے ہیں لیکن بعد میں ساری پریشانی واپس آ جاتی ہے۔ ان سب چیزوں کے فوائد اپنی جگہ لیکن ایک بات جو ہم بھول جاتے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ سب دنیا کے سہارے ہیں۔ کمزور اور ناپائیدار ۔ اصل مضبوط سہارا تو اللہ کا ہے۔ پائیدار رسّی تو اسی کی ہے جو واقعی ہی میں ہمیں سکون اور تحفظ کا احساس دیتی ہے ۔ اس کے علاوہ یہ کہ اگر ہم ذہن کے سکون کی تلاش میں اللہ کا سہارا لیں تو مقصد بھی حاصل ہو جائے گا اور اجر بھی۔

·

2 Comments

to comment on this Reflection

Beshak bilkul sahi ❤️

Related Reflections