وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ ' اور اگر غصہ آ جائے تو معاف کر دیتے ہیں۔' یغفرون لفظ 'غفر' سے نکلا ہے جسکا مطلب ہے ڈھانپ لینا۔ چھپا لینا۔ جس طرح اللہ کی رحمت ہمارے گناہوں کو ڈھانپ لیتی ہے اور وہ ہمیں معاف فرما دیتا ہے اسی سے نکلا ہے مغفرت بھی۔ جیسے ہم کہتے ہیں 'خدا انکی مغفرت فرمائے' اسکا بھی یہی مطلب ہے کہ اللہ تعالی انکے گناہوں کو اپنی رحمت اے ڈھانپ لے اور معاف فرما دے۔ معاف کرنا اس رب کا وصف ہے معاف کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا کہ ہم جیسے عام انسان معاف کرنے لگ جائیں۔ یہاں زرا رُک کر سوچیں جب کوئی ہمارا دل دُکھاتا ہے تو کیا گزرتی ہے ہم پر؟ کیا ہم فوراً معاف کر سکتے ہیں؟ کتنا جبر کرنا پڑتا ہے خود پر، کتنی ذہنی اذیت سہنی پڑتی ہے کتنا دل کو بڑا کرنا پڑتا ہے لیکن معاف کرنے والے کون لوگ ہیں جو اپنے رب پر توکل کرتے ہیں پوری طرح سے۔ ایمان والے اپنے رب پر توکل کرنے والے لوگوں کی نشانی ہے کہ وہ معاف کر دیتے ہیں۔ کیونکہ انکا اپنے رب پر یمان اتنا مضبوط ہے کہ وہ جانتے ہیں انکا رب انکے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دے گا، تکلیف پر صبر کرنے پر انکا اجر ضائع نہیں ہونے دے گا۔ اسی لیے وہ اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کر کے اس ہو توکل کرتے ہوئے معاف کر دیتے ہیں۔ اور دوسری بات کہ معاف کرنا اللہ تعالی کی صفت ہے اور اس صفت کو وہی اپناتے ہیں جو اپنے رب سے محبت کرتے ہیں اسکی رضا کی خاطر معاف کر دیتے ہیں کیونکہ اس طرح کرنے سے انکا رب خوش ہوتا ہے ۔ اسی لیے وہ کہتے ہیں ' میں نے اپنے رب کی رضا کی خاطر معاف کیا'۔ اللہ تعالی ہمیں بھی معاف کرنے والا بنائے اور کھلے دل کے ساتھ درگزر کی توفیق دے اور ہمیں'یتوکلون'میں شامل فرمائے آمین۔
الهيئة العالمية لتدبر القرآن الكريم
9mo agoAsh-Shuraa (42:37)
طهارة القلب ونظافة السلوك أثرٌ من آثار الإيمان الصحيح، وضرورةٌ من ضرورات الحياة الراشدة.
5 Comments
'معاف کرنا اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور اس صفت کو وہی اپناتے ہیں جو اپنے رب سے محبت کرتے ہیں' بےشک! دل کو چھو لینے والی تحریر ماشاءاللہ۔ اللہ آپ کو جزائے خیر عطا کرے اور ہمیں بھی ان مؤمنین میں شامل فرمائے جو اپنے رب کی محبت میں اس کے وصف اپناتے ہیں۔ آمین