السلام علیکم اس ایت میں اللہ تعالی بیان کر رہے ہیں کہ اگر کوئی بھی عمل رائی کے دانے کے برابر بھی ہوگا تو ہم اس کو لاموجود کریں گے کچھ دن پہلے کالج سے میں سند لینے گئی تو انہوں نے کہا کہ اپ یہ پہلے ہی لے چکے ہیں حالانکہ کہ ایسا نہیں تھا اس بات نے مجھے سوچنے پر مجبور کر ریا کہ اک کاغذ کا ٹکڑا وہ کچھ عرصے تک سنھبال نہیں پائے اور الٹا الزام بھی مجھے دیا مگر رب جو کائنات کو چلانے والا ہے وہ نہ صرف ہمارے اعمال کا حساب رکھتا ہے بلکہ ان کو سنبھالے ہوئے بھی ہے وہ قیامت کے دن ہمیں یہ نہیں کہے گا کہ جاؤ اپنے اعمال ڈھونڈ کر لاؤ پھر فیصلہ ہوگا بلکہ وہ ہر چیز کو خود آپ کے سامنے لائے گا۔ کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی اور رحم ہوگا ؟ کیا ہمارے رب کا یہ احسان نہیں ہے؟ پھر ہم کیوں نہیں سوچتے کیوں اپنے رب کی طرف نہیں جاتے ؟
الهيئة العالمية لتدبر القرآن الكريم
9mo agoLuqman (31:16)
تربية الأولاد على مراقبة الله تعالى وإحاطة علمه بكلِّ شيء ممَّا ينبغي أن يهتمَّ به الآباء؛ لأن ذلك هو الحارسُ الدائم في السرِّ والعلن.
4 Comments
Subhan Allah