اس آیت کو پڑھ کر خوف محسوس ہو رہا ہے مجھے لگتا ہے یہ آیت ہم سے بھی مخاطب ہے الله تعالی ہمیں بھی سمجھا رہے ہیں کہ دیکھو جانتے بوجھتے شرک نہ کرنا ہم پورے ہوش و حواس میں جانتے اور مانتے ہیں اللہ تعالیٰ ایک ہیں ساری طاقتیں ہمارے رب کے پاس ہیں وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے انسانوں کو اسی نے بنایا زمین کو اسی نے بنایا آسمان اسی نے اس قدر مصبوطی سے اپنی جگہ قائم رکھا ہے کہ وہ ہمارے سروں پر نہیں گرتا ہر طرح کی پیداوار اسی کے فضل سی اگلتی ہے جب سب کچھ الله کے قصبہ قدرت میں ہے تو عبادت بھی صرف اسی ذات کی کرنی چاہیے اپنی حاجات کے لیے صرف اسی کو پکارنا چاہیے مگر جب دنیاوی معاملات آتے ہیں تو ہم کن کی طرف رخ کرتے ہیں؟ الله کے کسی ولی کی قبر کا ہم بھی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس معاملے میں ہمارے لیے دعا کریں گے تو ہمارا کام بن جائے گا، تو کیا ہمیں اس رویے پر غور نہیں کرنا چاہیے کہ کہیں ہم بھی اسی غلطی میں تو مبتلا نہیں ہو رہے ؟ قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پچھلی امتوں نے بھی شرک کو بطورِ وسیلہ اختیار کیا تھا، حالانکہ وہ رب کی ذات کو مانتے تھے۔ ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے کہ کہیں ہمارے طرزِ عمل میں بھی ویسی کوئی کمزوری تو نہیں؟ کبھی کبھی ہم میں سے کچھ لوگ بھی غفلت یا عادت کے باعث ایسے کام کر بیٹھتے ہیں جو توحید کی روح کے خلاف ہیں، اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔ اللہ تعالی ہمیں توحید پر قائم رہنے والا بنائیں آمین ثم آمین
Hadeel
5y agoAl-Baqarah (2:21)
ياأيُّها النّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكم والَّذِينَ مِن قَبْلِكم لَعَلَّكم تَتَّقُونَ﴾ ﴿الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الأرْضَ فِراشًا والسَّماءَ بِناءً وأنْزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَأخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَراتِ رِزْقًا لَكم فَلا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أنْدادًا وأنْتُمْ تَعْلَمُونَ
ولِهَذا التَّرْتِيبِ أسْبابٌ، الأوَّلُ: أنَّ أقْرَبَ الأشْياءِ إلى الإنْسانِ نَفْسُهُ، وعِلْمُ الإنْسانِ بِأحْوالِ نَفْسِهِ أظْهَرُ مِن عِلْمِهِ بِأحْوالِ غَيْرِهِ، وإذا كانَ الغَرَضُ مِنَ الِاسْتِدْلالِ إفادَةَ العِلْمِ، فَكُلَّما كانَ أظْهَرَ دَلالَةً كانَ أقْوى إفادَةً، وكانَ أوْلى بِالذِّكْرِ. فَلِهَذا السَّبَبِ قَدَّمَ ذِكْرَ نَفْسِ الإنْسانِ، ثُمَّ ثَنّاهُ بِآبائِهِ وأُمَّهاتِهِ، ثُمَّ ثَلَّثَ ب
...
1 Comment
Jazakillahu Khairan for sharing this reflection ❣️