اعوذ با اللّٰہ من الشیطن الرجیم بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم کل رات کو عشا کی نماز ادا کرنے کے بعد اچانک سے مجھ پر اداسی کی کیفیت طاری ہو گئی اور مجھے شدت سے اپنا ایک کبوتر یاد آنے لگا۔ وہ کبوتر جب پیدا ہوا تھا تو بہت یونیک رنگ کا تھا۔ چمکتا ہوا کالا اور سفید رنگ۔ بہت خوبصورت ماشاءاللّٰہ۔ لیکن جب وہ ذرا سا بڑا ہوا تو اس کی اور ہم سب کی آزمائش شروع ہو گئی۔ وہ اس طرح سے کہ ایک دن وہ ۲ سے ڈھائی فٹ کی دیوار سے ذرا سا گرا اور اس نے چلنا بند کر دیا۔ ڈاکٹر کو بھی دکھایا، سب نے دلاسے دیے کہ ٹھیک ہو جائے گا لیکن وہ نہیں ہوا۔اس طرح وہ بڑا ہوتا گیا، لیکن چل نہیں سکا۔ ٹھیک چل نہ سکنے کے باعث وہ ہر وقت ہلتا رہتا تھا (یعنی جب بیٹھا ہوتا تھا تو اسے سکون نہیں ّآتا تھا، بس ہلے ہی جاتا تھا)۔ اسی طرح اپنے آپ کو زخمی بھی کر لیتا تھا۔ میں کبھی کبھار تنگ آ جایا کرتی تھی کہ بس بھی کردو ہلنا جلنا۔ اب کتنی بار میں اٹھ کر تمہیں دیکھنے آؤں؟ لیکن ٹھیک یہیں ایک بات میں بھولی ہوئی تھی کہ وہ اس کی نہیں، میری آزمائش تھی۔ کل رات اس کو یاد کرتے میں بہت روئی کہ کاش میں اس وقت تنگ دل نہ ہوتی۔ کاش میں اس کی حفاظت ٹھیک سے کرتی۔ باقی کسی کبوتر کو کچھ ہوتا تھا تو بہت خیال رکھتی تھی اسکا، پھر اسکا کیوں نہیں رکھا۔ کاش میں رکھ لیتی۔ یہاں تک کہ میں نے یہ بھی سوچا کہ جب وہ اپنے رب کے پاس گیا ہوگا، تو اس کی شکایات بجا ہیں۔ اس کو اجازت ہے اپنے رب کو بتانے کی، جو میں نے اس کے ساتھ کیا۔وہ تکلیف میں تھا لیکن میں اس کا خیال نہ رکھ سکی۔ اس کے آخری دنوں میں میں نے طے کیا تھا کہ بس اب میں اس کو اپنے پاس بٹھایا کروں گی۔ ساتھ رکھوں گی تاکہ کم از کم یہ مجھ سے ہی اٹیچ ہو جائے۔ لیکن اس کے ہی کچھ دنوں بعد وہ ہم سےدور چلا گیا۔ کل رات میں ابھی یہ سب سوچ کر بہت پریشان اور اداس تھی کہ یہ آیت میرے ذہن میں آئی۔ مجھے یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ یہ کس سورۃ میں میں نے پڑھی تھی۔ ابھی صبح اٹھ کر ڈھونڈا ہے اور وہ آیت سورۃ الحدید کی یہ آیت ہے: مَآ أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍۢ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَا فِىٓ أَنفُسِكُمْ إِلَّا فِى كِتَـٰبٍۢ مِّن قَبْلِ أَن نَّبْرَأَهَآ ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٌۭ (٢٢) لِّكَيْلَا تَأْسَوْا۟ عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا۟ بِمَآ ءَاتَىٰكُمْ ۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍۢ فَخُورٍ (٢٣) زمین میں اور تمہاری جانوں میں جو مصیبت پہنچتی ہے وہ ہمارے اسے پیدا کرنے سے پہلے (ہی) ایک کتاب میں (لکھی ہوئی)ہے بیشک یہ اللہ پر آسان ہے۔ تاکہ تم اس پر غم نہ کھاؤ جو تم سے جاتی رہے اور اس پراتراؤنہیں جو تمہیں اللہ نے دیا ہے اور اللہ ہر متکبر، بڑائی جتانے والے کو ناپسند کرتاہے۔ .کیونکہ یہ آیت بہت واضح ہے جو کچھ بھی ہمیں مصیبت پہنچتی ہے۔ چاہے وہ غم ہو، چاہے کوئی چوٹ ہو، چاہے نقصان ہو یا چاہے ہمارے اندر کے مسئلے جیسے سائیکولوجیکل مسئلے، مینٹل ہیلتھ کے مسئلے وغیرہ، وہ سب کی سب پہلے ہی لکھی جا چکی ہے۔ یہ جو اکثر ہم سوچتے ہیں کہ کاش ہم فلاں ملک میں پیدا ہوتے تو ہم غریب نہ ہوتے۔ کاش ہم فلاں چیز میں انویسٹ نہ کرتے تو ہم بچ جاتے، کاش وہ فلاں شخص ہمیں اس طرح ہرٹ نہ کرتا، نقسان نہ کرتا ہمارا وغیرہ وغیرہ یا کاش ہم دھیان سے چل لیتے تو نہ گرتے، کاش ہم برتن ٹھیک سے پکڑ لیتے تو وہ نہ ٹوٹتا۔ کاش ہمارے ماں باپ ہمیں سمجھتے۔ یہ سب کی سب چیزیں، یہ سب لکھی جا چکی ہیں بہت پہلے۔ ویسے میں ایک بات کہنا چاہوں گی کہ ہم ذیادہ تر جب کسی آیت کا مطلب سوچتے ہیں تو بڑی بڑی چیزیں سوچنے لگتے ہیں، اور یہ چھوٹی موٹی چیزوں کو نہیں سوچتے کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ یہ بھلا کہاں ریلیٹ کریں گی۔ لیکن یہی تو ساری بات ہے کہ قرآن 'ہماری زندگی' کے بارے میں ہے۔ ہماری معمول کی زندگی میں ہم جو کچھ کرتے ہیں‘ وہ سب اس میں ہے۔ اور یہ سب کچھ پہلے سے لکھا جا چکا ہے۔ تاکہ جو کچھ ہو چکا ہے، اس پر غم نہ کیا جائے۔ بلکہ موو آن کرنا سیکھا جائے۔ نقصان ہو گیا ہے، تو وہ لکھا تھا۔ جذبات کا نقصان ہوا ہے، تو وہ بھی لکھا تھا۔ کسی مادی چیز کا ہوا ہے، تو وہ بھی لکھا تھا۔ مصیبت پہنچی ہے، وہ بھی لکھی تھی۔ تو ایسے میں کیا کرنا ہے بھلا؟ موو آن۔ Move on اور اسی کے آگے کیا فرمایا ہے رب تعالی نے؟ چیز کے چلے جانے کے بالکل بعد! کہ جب کوئی چیز ملے۔۔۔ تو بھی اترانا نہیں ہے۔ کیونکہ نقصان کی طرح‘ وہ ملنے والی چیز بھی رب نے ہی دی ہے۔ نقصان اس نےدیا ہے، اس نے کچھ چھین لیا ہے‘ تو دینے والا بھی وہی ہے۔ وہی دیتا ہے۔ دے گا نہیں‘ دیتا ہے۔ لے لینے کے بلکل بعد دینے کا ذکر ہے۔ ایک ہی آیت میں۔ تو جو دے سکتا ہے وہ لے بھی سکتا ہے۔ اور لیا کب جاتا ہے؟ جب انسان ناشکری کرتا ہے۔ ناشکری یہ بھی ہے کہ رب کو بھلا دیا جائے اور ہر چیز کو خود سے منسوب کر لیا جائے۔ کامیابی ملی ہے، تو وہ میری وجہ ہے۔ کاروبار میں ترقی ہوئی ہے، تو وہ بھئی میں نے ذیادہ محنت کی تھی۔ ایسی چیزیں جب کی جائیں، تو یہ بھی ناشکری ہوتی ہے۔ بڑائی مارنا اور چیزون کو اپنے ساتھ منسوب کرنا یہ سب نہیں کرنا کیونکہ میرے اور ہم سب کے رب کو‘آپ کے رب کو نہیں پسند کوئی بھی متکبر، بڑائی مارنے والا۔ اور آخر پر الرحمٰن ہم سب کو معاف فرما دے آمین۔ الصلوٰۃ والسلام علیک یارسول اللّٰہﷺ وعلی علیک واصحابک یا رحمت اللعالمین

&23

·

7 Comments

to comment on this Reflection

Jazakallahu khairan ye kissa humse bayan karne k liye. Allah hume shukraguzar logon me shamil kare aur humare purane ghamon ko bharde 🤲

Related Reflections