میں نے یہ آیت بہت دفعہ پڑھی، سنی اور سیکھی ہے۔ لیکن صحیح معنوں میں اس کی سمجھ مجھے رمضان 2024 کے تجربے سے آئ۔ پچھلے سال میں رمضان کیلیے بہت ایکسائیٹڈ تھی، روز اپنی دوست سے رمضان کی تیاری کے حوالے سے بات کرتی، گولز سیٹ کرتی اور اپنی خوشی کا اظہار کرتی۔ رمضان کے انتظار میں ایک ایک دن گزارنا میرے لیے نہایت مشکل ہو رہا تھا۔ لیکن رمضان سےکچھ دن پہلے میں بیمار پڑ گئ اور پھر رمضان میں میری طبیعت مزید خراب ہوتی گئ، سارے گولز دھرے کے دھرے رہ گئے، بمشکل میں صرف فرض نماز پڑھ پاتی تھی اور بالکل تھوڑا سی قرآن کی تلاوت۔ آخری عشرے میں آ کر میری طبیعت کچھ سنبھلی لیکن کمزوری کے باعث زیادہ کچھ نہ کر پاتی تھی۔ پورا رمضان میں کسی حد تک اداس رہی کہ اپنے گولز پورے نہیں کر پائ اور نہ ہی زیادہ عبادت کر سکی۔ اس کے بعد سے لے کر اب تک میں سب کو یہی کہتی رہی کہ میرا پچھلا رمضان اچھا نہیں گزر پایا کیونکہ میں زیادہ عبادت نہیں کر پائ۔ کل یہ آیت نظر کے سامنے سے گزری اور تب سمجھ آئ کہ روزہ رکھنے کا مقصد یہاں اللہ نے جو بیان کیا ہے وہ ہے تقویٰ حاصل کرنا۔ عبادت کی اہمیت اور اجروثواب اپنی جگہ لیکن مقصد تو تقویٰ حاصل کرنا ہی ہے۔ یعنی خود کو گناہوں سے بچا بچا کر چلنا، دل میں اللہ کا خوف رکھنا ، اللہ کو ناراض کرنے سے ڈرنا۔ تو چاہے ہم اپنی بیماری کی وجہ سے زیادہ عبادت نہ کر سکیں، اگر ہم اپنے اندر تقویٰ پیدا کرنے میں کامیاب رہے ہیں تو ہمارا مقصد حاصل ہو گیا۔ ہمارا رمضان خوبصورت رہا۔ اگر ہم رمضان کیلیے گولز سیٹ کر رہے ہیں تو تقویٰ کے حصول کو اپنا سب سے اہم مقصد بنائیں کیونکہ یہی ہمارے رب کو ہم سے درکار ہے۔

·

1 Comment

to comment on this Reflection

جزاك الله خير۔ بہت اہم یاد دہانی ہے یہ۔

Related Reflections