بسم اللہ الرحمٰن الرحیم السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ اس آیت میں ہمارے اندر موجود رب کی نشانیوں کی طرف توجه دلائی گئی ہے ویسے تو انسان کا پورا وجود نطفےسے لے کر موت تک رب کی نشانیوں کو بیان کررہا ہوتاہے مگر جب میں نے اس آیت کو پڑھ کر خود پر غور کیا تو پہلی بار مجھے یہ محسوس ہواکہ بولنا اپنے آپ میں کس قدر بڑا معجزه ہے زبان جو ایک گوشت کا لوٹھرا ہے جب حرکت میں آتی ہے تو اس سے کیسے کیسے الفاظ ادا ہوتے ہیں جسم کے کسی اور حصے کو حرکت دیں تو کیا وہ بولنے کے قابل ہوتا ہے بالکل نہیں نہ پھر محض زبان کو ہلانے سے ہم کیسے بول لیتے ہیں اور اتنے مختلف الفاظ محض زبان کو ادھر ادھر کرنے سے ادا ہوتے ہیں مختلف ملکوں میں رہنے والے لوگ مختلف زبانیں بولتے ہیں تو کیسے زبان ان کی ادائیگی کرلیتی ہے بے شک یہ ہمارے رب کی قدرت کی بہترین نشانی ہے اگر ہم غور وفکر کریں

·

Comments

to comment on this Reflection
Be the first to comment on this post!

Related Reflections