لَا يُكَلِّفُ لَا = نہیں يُكَلِّفُ = وہ ذمہ داری ڈالتا ہے، پابند کرتا ہے، کسی کام کا مکلف بناتا ہے۔ یہاں مراد ہے: اللہ تعالیٰ کسی جان کو ایسی ذمہ داری نہیں دیتے جو اس کی وسعت سے باہر ہو۔ اللَّهُ اللہ تعالیٰ۔ نَفْسًا نَفْس = جان، ذات، شخص۔ یہاں اس سے مراد ہر مکلف انسان ہے۔ إِلَّا مگر، سوائے۔ یہ اگلے لفظ کے ساتھ مل کر معنی واضح کرتا ہے کہ ذمہ داری انسان کی وسعت کے مطابق ہوتی ہے۔ وُسْعَهَا وُسْع = طاقت، استطاعت، گنجائش۔ هَا = اس کی۔ دونوں مل کر: اس کی طاقت کے مطابق، اس کی استطاعت کی حد تک۔ لفظی ترجمہ: اللہ کسی جان کو مکلف نہیں بناتا مگر اس کی وسعت کے مطابق۔ آسان اردو ترجمہ: اللہ تعالیٰ کسی انسان پر اس کی طاقت اور استطاعت سے بڑھ کر ذمہ داری نہیں ڈالتے۔ آیت کا مفہوم: اللہ تعالیٰ کے احکام اور ذمہ داریوں میں انسان کی استطاعت کا لحاظ ہے۔ انسان اپنی قدرت کے مطابق ذمہ دار ہوتا ہے، اور دین میں عذر، مجبوری اور عدمِ استطاعت کے احکام بھی موجود ہیں۔ اس آیت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کو زندگی میں کبھی اپنی برداشت سے زیادہ مشکل محسوس نہیں ہوگی؛بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ شرعی ذمہ داریوں کی بات ہے تو ہم اپنی زندگی پر غور کریں تو ہمیں یوں لگے گا کہ ساری دنیا کے دکھوں سے بڑا میرا غم ہے ۔ اگر نہ بھی سوچیں تو دل میں یہ بات ہوتی ہے ۔ لیکن اگر ہم تدبر کریں کہ ہم بہادر ہیں کیونکہ اگر اللہ پاک نے کوئی مشکل دی ہے تو مطلب ہم وہ برداشت کر سکتے ہیں اسی لیے تو دی ہے ۔ ہماری برداشت سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا ، بے شک اللہ پاک اپنے بندوں سے ستر گُنا محبت کرتے ہیں ۔ تو اس لیے ہمیں اپنے غموں پر غور کرنے کی بجائے یہ سوچنا چاہیے کہ اللہ پاک نے غم دیا ہے تو اس کو برداشت کر سکتے ہیں اور اس سے ہم اور مضبوط ہوگئے ۔ بس ہر حال میں زبان پر شکر ہونا چاہیے ۔ اللہ پاک ہمیں اتنی نعمتیں عطا فرماتے ہیں ۔ پتہ نہیں ہم اس کے لیے موزوں ہوتے ہیں یا نہیں لیکن اللہ نے دی تو ہمارئ بہتری ہوگی اور ہمیں شکر ادا کرتے رہنا چاہیے ۔
لَا يُكَلِّفُ ٱللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا ٱكْتَسَبَتْ ۗ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ إِن نَّسِينَآ أَوْ أَخْطَأْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَآ إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُۥ عَلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِۦ ۖ وَٱعْفُ عَنَّا وَٱغْفِرْ لَنَا وَٱرْحَمْنَآ ۚ أَنتَ مَوْلَىٰنَا فَٱنصُرْنَا عَلَى ٱلْقَوْمِ ٱلْكَـٰفِرِينَ (٢٨٦)
Allah does not require of any soul more than what it can afford. All good will be for its own benefit, and all evil will be to its own loss. ˹The believers pray,˺ “Our Lord! Do not punish us if we forget or make a mistake. Our Lord! Do not place a burden on us like the one you placed on those before us. Our Lord! Do not burden us with what we cannot bear. Pardon us, forgive us, and have mercy on us. You are our ˹only˺ Guardian. So grant us victory over the disbelieving people.” (286)

2 Comments
جزاک اللہ خیرا اختی !
تدبر کرنے سے ہمیں یہ سب باتیں سمجھ آتی ہیں۔ آپ نے بہت اچھے انداز میں اسے بیان کیا ہے اللہ تعالیٰ آپ سے قبول فرمائیں ۔ اور آپ کے لیے بہت آسانیاں ہوں