( 12:30) اور شہر میں کچھ عورتیں آپس میں چرچا کرنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے نوجوان غلام کو ورغلا رہی ہے۔ وہ اس کی محبت میں گرفتار ہو چکی ہے۔ یقیناً ہم دیکھتے ہیں کہ وہ بہت بھٹک گئی۔ ﹏﹏﹏﹏﹏﹏﹏﹏﹏﹏﹏﹏﹏﹏﹏﹏﹏﹏﹏﹏﹏﹏ نوٹس :۔ سیاق و سباق اور تبصرے بتاتے ہیں کہ یہ اعلیٰ درجے کی خواتین تھیں، جو شاید عزیز مصر کے سیاسی حریفوں سے بیاہتا تھیں۔ درحقیقت یہ نام (عزیز) اس سورت میں پہلی بار انہی عورتوں نے استعمال کیا ہے جو کہ واضح طور پر تمسخر تھا نہ کہ محض گپ شپ۔ اصل میں ان کی نیت اس سے بھی زیادہ مذموم ہو سکتی ہے۔ 'شَغَفَها حُبّاً' سے مراد ہے 'اُس نے اِسے محبت سے مغلوب کر دیا' لیکن ہم نے ترجمے میں اس کی etymology پر زیادہ توجہ دی ہے جس سے مراد ہےدل پر چھا جانا یا گہرائی میں اتر جانا۔ یہ ترجمہ فائیو لینزز اردو پلان ( تدبر کے پانچ زاویے) کے طلباء کی سہولت کے لیے کیا گیا ہے۔ اصل تحریر کا لنک
https://quranreflect.com/posts/15556
Comments