اکثر جب ہمیں کوئ بات بہت پریشان کر رہی ہوتی ہے تو ہم اپنا ذہن بھٹکانے کیلیے اور اسے پر سکون کرنے کیلیے مختلف چیزوں کا سہارا لیتے ہیں۔ کبھی دوستوں کے ساتھ باتیں کرنے لگ جاتے ہیں، کبھی فون پہ سکرولنگ اور کبھی خود کو مختلف کاموں میں مصروف کر دیتے ہیں۔ کچھ دیر کیلیے ہم بہتر تو محسوس کرتے ہیں لیکن بعد میں ساری پریشانی واپس آ جاتی ہے۔ ان سب چیزوں کے فوائد اپنی جگہ لیکن ایک بات جو ہم بھول جاتے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ سب دنیا کے سہارے ہیں۔ کمزور اور ناپائیدار ۔ اصل مضبوط سہارا تو اللہ کا ہے۔ پائیدار رسّی تو اسی کی ہے جو واقعی ہی میں ہمیں سکون اور تحفظ کا احساس دیتی ہے ۔ اس کے علاوہ یہ کہ اگر ہم ذہن کے سکون کی تلاش میں اللہ کا سہارا لیں تو مقصد بھی حاصل ہو جائے گا اور اجر بھی۔
Sam Ahmed
4h agoAl-'Ankabut (29:41)
شبكة العلاقات البشرية تبدو تماما مثل شبكة العنكبوت..
كلاهما يعتمد علي خطوط متعددة ومتقاطعة وكلما زادت يبدو وكأن صاحبها أسس لنفسه قلعة حصينة وملاذ آمن .. لكن الشبكة تحمي من بعض الأخطار البسيطة ولا تحمي من الكل و تحتاج الي العناية التامة بكل الخيوط وإرضاءهم حيث أن تخلي خيط أو ضعفه أو موته يحدث نقطة ضعف وثغرة مميتة.
بينما تتعلم في القرآن أن حائط الدفاع هو التوكل وأن بناء قواعد القوة في الحوقلة وأن الرزق والحياة الطيبة في التوبة والاستغفار.
2 Comments
Beshak bilkul sahi ❤️