تقریباً ساڑھے تین سال پہلے، میں نے اپنی کلاس میں شیخ سعدی کی لکھی ہوئی ایک چھوٹی سی کہانی پر پریزنٹیشن دی تھی، اور اسی کہانی میں یہ آیت بھی ذکر کی گئی تھی۔ یہی وہ لمحہ تھا جب میرا اس آیت سے پہلا حقیقی تعارف ہوا، اور مجھے یاد ہے کہ اس آیت کو بیان کرتے ہوئے میری آواز کانپ گئ تھی، کیونکہ میرے اندر کچھ ہل رہا تھا، کچھ بدل رہا تھا۔

تب سے لے کر آج تک، یہ آیت میری پسندیدہ آیات میں سے ایک ہے ایسی آیت جس پر عمل کرنے کی کوشش میں کبھی نہیں بھولتی۔

یہ وہ آیت ہے جو مجھے عاجز رکھتی ہے۔ یہ وہ آیت ہے جو مجھے میری حدود میں رکھتی ہے۔ اور یہ وہ آیت ہے جو ہمیشہ مجھے رکنے، سوچنے اور اپنے اعمال پر غور کرنے پر مجبور کرتی ہے۔

ہر دن، جب میں کسی کو کوئی نصیحت کر رہی ہوتی ہوں تو یہ آیت بار بار میرے ذہن میں گونجتی ہے: 'کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو، اور خود کو بھول جاتے ہو؟ حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو؟ کیا تم عقل نہیں رکھتے؟'

میں رک جاتی ہوں اور خود سے سوال کرتی ہوں: کیا میں خود اپنی ام اس نصیحت پر عمل کرتی ہوں؟ خاص طور پر تب جب میں قرآن کی طالبہ ہوں اور اس کی تلاوت کرتی ہوں۔

شروع میں، اگر مجھے لگتا کہ میں خود اس نصیحت پر عمل نہیں کر رہی، تو میں بیچ میں ہی نصیحت چھوڑ دیتی تھی۔ لیکن پھر مجھے احساس ہوا کہ اصل بات یہ نہیں کہ اگر آپ خود اس پر عمل نہیں کر رہے تو آپ کو نصیحت کرنا چھوڑ دینا چاہیے ۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ آپ خود کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے رہیں ۔ اپنے آپ کا جائزہ لیتے رہیں، اور خود کو اپنا بہترین ورژن بنانے میں مصروف رہیں۔

تب سے، یہ آیت میری موٹیویشن بن گئی اپنے آپ کو بہتر سے بہترین بنانے کے لیے، تاکہ میں دوسروں کو بغیر کسی ندامت کے نصیحت کر سکوں، تاکہ میرے لیے صدقۂ جاریہ جمع ہو سکے، اور میں دوسروں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکوں۔

·

4 Comments

to comment on this Reflection

Jazakillahu Khairan. May Allah pak accept you 🤲💜

Related Reflections