بسم الله الرحمن الرحيم السلام عليكم ورحمة الله وبركاته جب میں نے یہ آیت پڑھی تو میرے ذہن میں ایک طالب علم کی مثال آئی — جو دن رات محنت کرتا ہے، سورج طلوع ہونے سے پہلے اٹھتا ہے، لمبا سفر طے کرکے درسگاہ پہنچتا ہے، پھر شام تک پڑھتا رہتا ہے۔ نہ دن دیکھتا ہے، نہ رات، نہ کھانے پینے کا ہوش، نہ آرام کا۔ صرف پڑھائی، ڈگری، اور کامیابی کا سفر۔ لیکن افسوس… ساری کوشش صرف دنیا کے لیے۔ وہ کبھی قرآن کو کھول کر نہیں دیکھتا، نہ یہ سوچتا ہے کہ علم کا اصل مقصد کیا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ اچھا کام کر رہا ہے، مگر دراصل وہ اصل منزل سے ہٹ گیا ہے۔ یہ آیت ایسے لوگوں کی یاد دلاتی ہے جن کے اعمال دنیا میں بہت تھے، مگر وہ مقصد سے غافل رہے: 'وہ کہ دنیا کی زندگی میں جن کی ساری سعی و جہد راہِ راست سے بھٹکی رہی اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں' (سورۃ الکہف 18:104) شاید یہ ہمیں متنبہ کرتی ہے کہ علم اور محنت تب ہی بابرکت ہے جب وہ ہمیں اپنے رب کے قریب کرے۔ ورنہ ساری دوڑ دھوپ محض دنیا کے لیے رہ جاتی ہے۔

·

2 Comments

to comment on this Reflection

Jab hum kisi cheez Mai itnay magan ho jayein k akhirat ka ehsas bhi Dil say khatam ho to yeh waqai nakami hai. Allah tallah hmay hidayat dein. Jazakillahu Khairan sister ❤️

Related Reflections