بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ ۚ یُکَوِّرُ الَّیۡلَ عَلَی النَّہَارِ وَ یُکَوِّرُ النَّہَارَ عَلَی الَّیۡلِ وَ سَخَّرَ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ ؕ کُلٌّ یَّجۡرِیۡ لِاَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ اَلَا ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡغَفَّارُ ﴿۵﴾ اس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیداکیا، وہ رات کو د ن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے اور اس نے سورج اور چاند کو کام میں لگا رکھا ہے ہر ایک ایک وقتِ مقرر کے لیے چلتا ہے سنو وہ غالب بخشنے والا ہے۔ یہ سورۃ زمر کی پانچویں آیت ہے۔ چونکہ میں یہی پڑھ رہی ہوں تو اسی پر تدبر بھی کرتے ہیں۔ اس آیت میںﷲ تعالیٰ نے آسمان کا ذکر کیا، پھر زمین کا۔ اور ان کے بارے میں فرمایا کہ انہیں ﷲ نے حق کے ساتھ بنایا ہے۔ کتنی ہی آیات ہیں جس میں ﷲ نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ اس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا ہے۔ لیکن ایک چیز یہاں غور طلب ہے کہ ﷲ نے فرمایا ہے کہ اس نے آسمان اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا۔ تو یہ حق کیا ہے؟ حق کا مطلب ایسا ساکٹ(socket)ہے جہاں تھائی بون کا اوپر والا حصہ بالکل فٹ آ بیٹھتا ہے۔ اسکا مطلب اونٹ کا میچور ہو جانا بھی ہے۔ حق کسی بات کو proveکرنے کو بھی کہتے ہیں۔ حق سچ کو بھی کہا جاتا ہے۔ ان تمام میں ایک چیز کامن ہے اور وہ ہے کہ 'کسی چیز کا بالکل فٹ طریقے سےاپنی اصل جگہ آجانا۔' جیسے تھائی بون کا۔ اونٹ کا میچور ہونا مطلب اس کی عمر کا پرفیکٹ حصہ آ پہنچنا۔ یا سچ میں بھی ہر چیز اپنی اصل جگہ آ جاتی ہے۔ کسی بات کو پروو کرنے وقت بھی جو پزل کا ٹکڑا مسنگ لگ رہا ہوتا ہے وہ ٹھیک ٹھیک آ بیٹھتا ہے۔ یہ ہے حق۔ لیکن یہاں ایک بات ذہن میں آتی ہے کہ بھلا ان چیزوں کا ذکر کرنے کی کیا وجہ؟ ہم جانتے ہیں کہ انہیں ﷲ تعالیٰ نے بنایا ہے ٹھیک ٹھیک لیکن اس بات کا بار بار ذکر؟ اور آج کی آیت میں ذکر؟ اس کی کیا وجہ ہے؟ پھر آگے ہی یہ ذکر فرما دیا کہ وہ رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر۔ پھر سورج اور چاند کا ذکر اور انکی مدت کا۔ لیکن پھر۔۔۔۔ اسی کے آگے اس نے ہمیں اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ مجھے اور آپ کو۔ اور فرمایا ہے کہ 'سن لو وہ العزیز ہے اور الغفار۔' اپنی اتنی بڑی بڑی چیزوں کا ذکر کرتے اچانک سے ہی ہمیں مخاطب کرنا اور فرمانا کہ سن لو وہ العزیز اور الغفار ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ رب تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو ٹھیک طریقے سے بنایا ہے یعنی انہیں بالکل فٹ طریقے سے ڈیزائن کیا ہے کہ اب اس میں کسی قسم کی imperfectionکی گنجائش نہیں بچی۔ وہ پراپر طریقے سے اپنی جگہ پر فٹ ہیں۔ انہیں اُس نے پرفیٹکٹلی ڈیزائن کیا ہے۔ بنا کسی گنجائش کے۔ اس آیت میں بہت سی چیزیں چھپی ہوئی ہیں میری تھوڑی سی عقل اور سمجھ کے مطابق۔ جس میں سے پہلی چیز جسے آج میں بتانا چاہوں گی (یعنی جو مجھے لگتا ہے کہ ﷲ نے کیوں ذکر فرمایا ہے) وہ یہ ہے کہ السموت وہ شے ہوتی ہے جو دور ہوتی ہے‘ اونچائی پر ہوتی ہے۔ دوسری طرف جو الرض ہے یعنی زمین ،وہ نیچے ہوتی ہے‘ قریب ہوتی ہے۔ میری عقل کے مطابق شاید آسمان ان تمام چیزوں کی عکاسی کرتا ہے جو چیزیں ہم صرف دیکھ سکتے ہیں دور سے۔ اسے چھو نہیں سکتے اور ایسی کونسی چیزیں ہیں ہماری زندگی میں؟ کوئی ایسی چیز جو ہمارے پاس نہیں ہے لیکن ہم دوسروں کے پاس اسے دیکھتے ہیں۔ یا کبھی ہمارے حالات اس چیز تک رسائی کی اجازت نہیں دیتے۔ تب ہم یہ خیال کرتے ہیں کہ کاش ہم اس چیزکے مالک ہوتے یا فلاں شخص تک ہماری رسائی ہوتی یا فلاں جاب ‘ کورس وغیرہ مجھے مل جاتا۔ وہ تمام چیزیں جن کے ہم خواب دیکھتے ہیں لیکن وہ ہماری پہنچ سے اونچے ہیں اور ہم نہیں پہنچ سکتے۔ اس میں حالات بھی آجاتے ہیں جو ہمارے قابو میں نہیں ہوتے. انھوں نے ہمارے قابو میں ہونا تھا بھی نہیں. وہ چیزیں (میری سمجھ کے مطابق) آسمان ہیں۔ اس کے علاوہ وہ تمام چیزیں جو ابھی ہمارے پاس ہیں اور ہماری رسائی ان تک ہے‘ جنھیں چھوا جا سکتا ہے،وہ زمین ہیں۔ ایک بار پھر کہوں گی کہ یہ میری عقل اور سمجھ کے مطابق ہے۔ باقی ﷲ تعالیٰ جاننے والا ہے۔ تو ﷲ تعالیٰ شاید اس آیت میں ہمیں یہ بتانا چاہتا ہے کہ یہ جو تمام چیزیں ہیں، انھوں نے ایسے ہی ہونا تھا۔ وہ اپنی اصل جگہ پر بالکل ٹھیک سے موجود ہیں۔ جن چیزوں نے ہماری زندگی میں آنا تھا وہ موجود ہیں اور جنھوں نے نہیں آنا تھا، وہ نہیں ہیں۔ یہ آیت ہمیں یہ یاد دلانے آئی ہے کہ یہ جو ہم شک کرنے لگتے ہیں نا رب کی تخلیق میں ، کہ کب تبدیل ہوں گے میرے حالات؟ جبکہ فلاں تو اپنی زندگی میں ایسا ہے، ویسا ہے۔ کب وہ فلاں چیز آئے گی میرے پاس وغیرہ وغیرہ۔ تو اس کا جواب یہی ہے کہ وہ ابھی جہاں ہے، 'وہاں پرفیکٹ جگہ پر ہے۔' ' جو چیز جہاں ہے، وہ وہاں پرفیکٹ طریقے سے ہے۔' جو چیزیں ہمارے پاس ہیں، وہ بہترین طریقے سے موجود ہیں۔ وہ بہترین چیزیں ہیں‘ وہ وہی چیزیں ہیں جو ہمارے ساتھ فٹ بیٹھتی تھیں، ہمارے لیے بیسٹ تھٰیں۔ یہ آیت بس اتنا ہی یاد کروانے آئی ہے کہ : 'اس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیداکیا' تو اس کی تخلیق میں شک کرنا چھوڑ دیں۔ ﷲ تعالیٰ ہم سب کی مدد فرمائے۔ کوئی شک نہیں وہی نیتوں کا جاننے والا ہے۔ باقی بھی انشاءﷲ کروں گی اگر ﷲ تعالیٰ نے اجازت دی۔ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
الهيئة العالمية لتدبر القرآن الكريم
9mo agoAz-Zumar (39:5)
مع عزة الله وقوته فتح الطريق أمام العباد للتوبة والإنابة، فأين المستغفرون التائبون؟
المصدر: هدايات القرآن الكريم
للمزيد حمل تطبيق تدبر:
https://mssg.me/4lx6w
Comments