میرے پچھلے کچھ دن بہت پریشانی میں گزرے، جس کی وجہ سے مجھ میں کچھ بھی کرنے کی ہمت نہیں رہتی تھی۔ کبھی تدبر کرنے لگتی تو ذہن اور دل بالکل خالی لگتے۔ اور کسی طرح سونے سے پہلے سورت الملک کی تلاوت کی بھی عادت ختم ہو گئ تھی ۔ کل رات مجھے بہت اینزائٹی تھی ، اور ساتھ ہی ساتھ یہ دو الفاظ'بیدہ الملک' بار بار میرے ذہن میں آ رہے تھے ۔ 'جس کے ہاتھ میں بادشاہت ہے ۔' اور تب ذہن میں یہ سوچ آئ کہ ہاں، اس کے ہاتھ میں ہے بادشاہت ۔ معاملات میرے کنٹرول سے باہر ہو سکتے ہیں ، میرے پاس ان کو بہتر کرنے کا اختیار بے شک نا ہو۔ لیکن ایک ذات ہے جس کا اختیار اب بھی ہے اور ہمیشہ رہے گا اور جو بہت رحیم ہے۔ جو اس سب کو بدلنے پہ قادر ہے اور جس کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے، خیر ہوتی ہے۔ اور تب مجھے سمجھ آئ کہ ہر رات اس سورت کی تلاوت کی تلقین کیوں کی گئ ہے ۔ اس سورۃ میں ایسے بہت سے reminders ہیں جو ہمیں ہر روز چاہئیے ہوتے ہیں ۔ اور تب افسوس بھی ہوا خود پہ کہ کتنی بڑی غلطی کر دیتے ہیں ہم اللہ کی بات نا مان کر۔ حالانکہ اس میں ہماری ہی بھلائی ہوتی ہے۔
Aya Ezz Eldeen
6mo agoAl-Mulk (67:1)
استوقفنى تدبر لأول آية من سورة الملك: " تبارك الذى بيده المُلك ، و هو على كل شيء قدير"
المُلك بإيد ربنا وحده المُلك بجاهه و سلطانه من أصغر حاجة لأكبر حاجة ربنا المتصرف فى أمور ملكه يجرى الأمور لمشيئته هو ، و هو الذى يُقدر وحده ما يشاء و صاحب السلطة و المُلك و الجاه .. الأمر أمره و لا إله غيره .. و نيجى احنا نحط حواجز وهمية لأمنياتنا ،و نستشعر صعوبات، و نسمع لمخاوف و قلق نسينا أن الله صاحب القدرة تبارك بيده المُلك هو الـ بيزيح الصعب و هو اللى بيسمح بوجود الضُر بإذنه و هو ال بيزيحه و يحوله لخير🤍. ازاى كنا بنعدى عليها بالشكل السطحى السريع دا ، جزا الله خيراً من لفتنى لها .. اللهم إنا نعوذ بك أن نشرك بك شيئاً نعلمه و نستغفرك لما لا نعلمه ..
2 Comments
Jazakallahu khairan