کل میری ایک عورت سے بحث ہو گئی، وہ لوگ کسی بزرگ کے مزار پر جا رہے تھے، میں نے پوچھا اتنی سردی میں کیوں جا رہے کہنے لگی، منت پوری کرنے جا رہے ہیں۔ میں انہیں سمجھانے لگی تو کہنے لگی بیٹا بزرگوں کا حصہ اللہ نے رکھا ہوتا ہے تو جانا تو پڑتا ہے مزار پر ۔ اب کوئی مانے یا نہ مانے۔ تب مجھے یہ آیت یاد آئی: وَ یَجْعَلُوْنَ لِمَا لَا یَعْلَمُوْنَ نَصِیْبًا مِّمَّا رَزَقْنٰهُمْؕ 'اور ہمارے دیئے ہوئے مال میں سے ایسی چیزوں کا حصہ مقرر کرتے ہیں جن کو جانتے ہی نہیں' یعنی جن کو یہ حاجت روا، مشکل کشا اور معبود سمجھتے ہیں، وہ پتھر کی مورتیاں ہیں یا جنات وشیاطین ہیں، جن کی حقیقت کا ان کو علم ہی نہیں۔ اسی طرح قبروں میں مدفون لوگوں کی حقیقت بھی کوئی نہیں جانتا کہ ان کے ساتھ وہاں کیا معاملہ ہو رہا ہے؟ وہ اللہ کے پسندیدہ افراد میں ہیں یا کسی دوسری فہرست میں؟ ان باتوں کو کوئی نہیں جانتا لیکن ان ظالم لوگوں نے ان کی حقیقت سے ناآشنا ہونے کے باوجود، انہیں اللہ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے اور اللہ کے دئیے ہوئے مال میں سے ان کے لیے بھی (نذر ونیاز کے طور پر) حصہ مقرر کرتے ہیں بلکہ اللہ کا حصہ رہ جائے تو بیشک رہ جائے ان کے حصے میں کوئی کمی نہیں کرتے۔ اور انکا حصہ خود مقرر کرتے ہیں پھر کہتے ہیں اللہ نے خود بزرگوں کا حصہ رکھا ہے؟ اللہ معاف کرے اور ھدایت دے ایسے لوگوں کو جنہوں نے ہمارے معاشرے میں قبر پرستی کو عام کر رکھا ہے۔ لوگ اللہ کو چھوڑ کر وہاں جاتے ہیں نماز قرآن چھوڑ کر قبروں میں دفن بزرگوں سے مدد مانگتے ہیں۔ استغفراللہ اللہ ہم سبکو عقیدہ توحید پر قائم رکھے آمین

·

3 Comments

to comment on this Reflection

Ameen ya rabb

Related Reflections