یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَاۚ-فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ 'جواللہ کی آیتوں کو سنتا ہے کہ اس کے سامنے پڑھی جاتی ہیں پھرتکبر کرتے ہوئے ضد پر ڈٹ جاتا ہے گویااس نے ان آیتوں کو سنا ہی نہیں تو ایسے کو درد ناک عذاب کی خوشخبری سناؤ' اس آیت میں اللہ تعالی نے اس شخص کاذکر کیا ہے جو اللہ تعالی کے منع کی گئی باتوں کو سن کر بھی باز نہ آئے اور ضد پر اڑا رہے یعنی وہی کام کیے جائے جن سے منع کیا گیا ہے۔ اور وہ کام کئی طرح کے ہیں شراب نوشی، زناکاری، جوا، چوری، رشوت خوری اور حرام کھانا۔ یہ وہ بڑےگناہ ہیں جو ہر کوئی نہیں کرتا لیکن آج ہم ان گناہوں کو پڑھیں گے جو ہر کوئی جانے انجانے میں بھی کرتا ہے اور ان گناہوں پر اڑا رہتا ہے نا چاہتے ہوئے بھی انکو چھوڑ نہیں پاتا۔ قرآن میں سورہ حجرات میں ان بُرے کاموں (گناہوں)کا ذکر ایک ساتھ آیا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ ؗ— اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّلَا تَجَسَّسُوْا وَلَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا ؕ اے ایمان والو! بہت بدگمانیوں سے بچو یقین مانو کہ بعض بدگمانیاں گناه ہیں(1) ۔ اور بھید نہ ٹٹوﻻ کرو(2) اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے(3)۔ (۱)ظَنَّ کے معنی ہیں گمان کرنا۔ مطلب ہے کہ اہل خیر واہل اصلاح وتقویٰ کے بارے میں ایسے گمان رکھنا جو بےاصل ہوں اور تہمت وافترا کے ضمن میں آتے ہوں اسی لئے اس کا ترجمہ بدگمانی کیا جاتا ہے۔ اور حدیث میں اس کو أَكْذَبُ الْحَدِيثِ (سب سے بڑا جھوٹ) کہہ کر اس سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔ (2) یعنی اس ٹوہ میں رہنا کہ کوئی خامی یا عیب معلوم ہو جائے تاکہ اسے بدنام کیا جائے، یہ تجسس ہے جو منع ہے اور حدیث میں بھی اس سے منع کیا گیا ہے۔ بلکہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر کسی کی خامی، کوتاہی تمہارے علم میں اجائے تو اس کی پردہ پوشی کرو۔ نہ کہ اسے لوگوں کے سامنے بیان کرتے پھرو۔ (3) غیبت کا مطلب یہ ہےکہ دوسرے لوگوں کے سامنےکسی کی برائیوں اور کوتاہیوں کا ذکر کیا جائے جسے وہ برا سمجھے اور اگر اس کی طرف ایسی باتیں منسوب کی جائیں جو اس کے اندر موجود ہی نہیں تو وہ بہتان ہے۔ اپنی اپنی جگہ دونوں ہی بڑے جرم ہیں۔ لیکن غیبت ایسی بیماری ہے جو بڑھتی جا رہی ہے اِدھر ایک شخص نے ہمارا دل دکھایا اُدھر ہم نے اسکی برائی کسی اور کے ساتھ شئیر کی اور اپنا دل ہلکا کر لیا تو ہو گئی نا غیبت۔ سب سے زیادہ غیبت ہم اپنا دل ہلکا کرنے کے چکر میں کر جاتے ہیں۔ اس سے بچیں۔ یہ وہ گناہ ہیں جن پر ہم اڑے رہتے ہیں انکو ہم چھوڑ نہیں پاتے تو یاد رکھیں اگر انکو نہیں چھوڑنا تو اللہ فرماتے ہیں: فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ تو ایسے کو درد ناک عذاب کی خوشخبری سناؤ۔

اگرچہ پہلی آیت کا بنیادی طور پر تعلق انکار کرنے والے کفار سے ہے جو اللہ کی آیات کو سن کر تکبر کے ساتھ رد کر دیتے ہیں، لیکن اس اصول کو ان کے لیے بھی تنبیہ کے طور پر لیا جا سکتا ہے جو غیبت، بدگمانی، اور تجسس جیسے گناہوں پر اڑے رہتے ہیں، جیسا کہ سورہ حجرات میں ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ کے احکامات کو نظرانداز کرتے ہوئے مسلسل گناہ کرنا ایک خطرناک راستہ ہے جو سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

اللھم أجرنا من کل عذاب آمین۔

·

4 Comments

to comment on this Reflection

Allah hume in gunahon se bachae

Related Reflections