سورت التوبہ کے آغاز میں بسم اللہ نہ ہونے کی بہت سی وجوہات بتائی جاتی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ سورۃ التوبہ سخت احکامات، جنگ، اور منافقین و کفار کے لیے وعیدوں پر مشتمل ہے۔ اس لیے، اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آغاز میں 'بسم اللہ' نہیں رکھی، تاکہ ان احکامات کی سختی اور اللہ کا غصہ واضح ہو۔ آج جب قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے میں سورت التوبہ پہ پہنچی تو وہاں بسم اللہ نہ دیکھ کر سب سے پہلے یہی وجہ میرے ذہن میں آئ۔ میں نے خود کو ایک دم سے چوکنا ہوتے محسوس کیا ، یوں جیسے کہ میں کچھ غلط نہ کر دوں، میں نے دل میں خوف اور احترام محسوس کیا۔ جیسے اگر آپ کا استاد غصے میں ہو تو آپ ایک دم سے کلاس میں چوکس ہو جاتے ہیں، بالکل ویسے ہی۔ اس سب کے پیچھے وجہ شاید یہی تھی کہ مجھے علم تھا کہ یہاں بسم اللہ نہ ہونے کی کیا وجوہات بتائی جاتی ہیں۔ پھر مجھے سورت الزمر کی یہ آیت ذہن میں آئ: 'کہو بھلا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو نہیں رکھتے دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟' سبحان اللہ ۔ ہم دن میں کتنے ہی گناہ کرتے ہیں، کتنے ہی ایسے کام کرتے ہیں جن کی وجہ سے ہمارا رب ہم سے ناراض ہوتا ہو گا، غصے میں آتا ہوگا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان سب گناہوں کا ادراک ہو جانے کے بعد ہم اس طرح الرٹ کیوں نہیں ہوتے؟ وجہ شاید یہ ہے کہ ہم نے کبھی صحیح سے اللہ کے عذاب کے بارے میں علم ہی حاصل نہیں کیا۔ گناہوں کی سزا دی جائے گی سب کو معلوم ہے، لیکن وہ سزا کیسی ہو گی, جہنم کی آگ کی شدت کیسی ہوگی، کس گناہ کے بدلے سر کچلا جائے گا اور کس کے بدلے کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا،اس کے بارے میں کوئی نہیں سیکھتا ۔
جب علم نہیں ہوگا تو اس سے خوف کیسے آۓ گا؟ دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو نفع مند علم حاصل کرنے کی توفیق دے اور ہمیں ہر قسم کے عذاب سے محفوظ رکھے۔ آمین
1 Comment
Ameen summa ameen 🤲. Allah pak humaein aajzi aur khauf rakhnay Wala bnaye. Jazakillahu Khairan for sharing this valuable reflection. Allahumma barik ✨