میرے پچھلے کچھ دن بہت پریشانی میں گزرے، جس کی وجہ سے مجھ میں کچھ بھی کرنے کی ہمت نہیں رہتی تھی۔ کبھی تدبر کرنے لگتی تو ذہن اور دل بالکل خالی لگتے۔ اور کسی طرح سونے سے پہلے سورت الملک کی تلاوت کی بھی عادت ختم ہو گئ تھی ۔ کل رات مجھے بہت اینزائٹی تھی ، اور ساتھ ہی ساتھ یہ دو الفاظ'بیدہ الملک' بار بار میرے ذہن میں آ رہے تھے ۔ 'جس کے ہاتھ میں بادشاہت ہے ۔' اور تب ذہن میں یہ سوچ آئ کہ ہاں، اس کے ہاتھ میں ہے بادشاہت ۔ معاملات میرے کنٹرول سے باہر ہو سکتے ہیں ، میرے پاس ان کو بہتر کرنے کا اختیار بے شک نا ہو۔ لیکن ایک ذات ہے جس کا اختیار اب بھی ہے اور ہمیشہ رہے گا اور جو بہت رحیم ہے۔ جو اس سب کو بدلنے پہ قادر ہے اور جس کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے، خیر ہوتی ہے۔ اور تب مجھے سمجھ آئ کہ ہر رات اس سورت کی تلاوت کی تلقین کیوں کی گئ ہے ۔ اس سورۃ میں ایسے بہت سے reminders ہیں جو ہمیں ہر روز چاہئیے ہوتے ہیں ۔ اور تب افسوس بھی ہوا خود پہ کہ کتنی بڑی غلطی کر دیتے ہیں ہم اللہ کی بات نا مان کر۔ حالانکہ اس میں ہماری ہی بھلائی ہوتی ہے۔

·

2 Comments

to comment on this Reflection

Jazakallahu khairan

Related Reflections