fatima khan

@bint_e_hawah

6Posts
38Reactions
Joined 2021

Sort:

'اور تمہیں ہم نے جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا۔' 78:8

اللہ تعالی نے ہر چیز کوایک جوڑے میں بنایا ہیں۔ ہر انسان کے دو کان دو آنکھیں دو ہاتھ اور دو پاؤں بنائیے ہیں ۔۔اس طرح دن رات ،چاند سورج کے بھی جوڑے بنائے ہیں ۔

اللہ نے بہترین جوڑے بنائیے ہیں ۔۔جب ہم اندھیرے کے بارے میں جان جاتے ہیں تو ھمیں روشنی کی پہچان ھوتی ہے ۔اسی طرح ہماری لائف میں بھی جب تک غم نہیں آتے ہے۔ ہمیں خوشی کہ بارے میں علم نہیں ہوگا نا ہمیں خوشی کی پہچان ہوگی ۔۔ ایک چیز جب بار بار ہوتی ہے تو پھر وہ نارمل ہوجاتی ہے ہم اُس چیز کے ساتھ normailize ہوجاتے ہیں اور پھر نا ہی اسکی اہمیت کا اندازہ ہوتاہے ۔ غم اتھے ہی ھمیں خوشی کا اصل مزا احساس کروانے کیلئے ۔ جب ھمیں معلوم ہوجاتا ہے یقین ھوتا ہے کہ غم کہ بعد خوشی آتی ہے تو ہم اسکے تلاش ک

...

Comments

·

Comment

یہ ایت جب میں نے پڑھی تو میں ذرا رُک کر سوچنے لگی جیسے جیسے استاذا اسکو explain کر رہی تھی میں مذید سوچتی تھی کہ یہ ہم کیوں نہیں خیال کرتے ہیں۔ ہم ایک کام تو کرتے ہیں but وہ کہتے نا کے behind The scene کیا چل رہا وہ معلوم نہیں ہوتا ہے۔ہمیں کچھ خبر نہیں ہے کے ہم جو کر رھے ہے وہ کیوں کرہے ہے وجہ کیا ہے۔نیت کیا سوچ کیا ہے،مقصد کیا ہے۔ ہم جو کرتے ہے ضروری وہ نہیں ہے بلکہ نیت کیا ہے وہ ضروری ہے ۔۔ تو آج کی آیت بہت خوبصورت اور خبر دار کرنے والی تھی ۔۔کے ہر چیز نیت پر dependent ہے آپکی نیت پر ہی آپکو اجر اور سزا دی جائے گی ۔۔اگر آخرت کی نیت ہوگی تو ہم ہر چیز اللہ کے لئے کرے گے اور reword بھی آخرت کا ہی طلب کرے گے ۔۔ اور یہ نیت ہی ہمیں دُنیا سے بے نیاز کرتی ہے۔ اور کیا ہے پھر یہ بے نیاز ہونا؟؟ بے ن

...

2

Comments

·

Comment

JAZAKILLAH 🌼🥺

View more

بِسْمِ اللّٰهِِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْم ھُوَ الَّذِیْ یُـنَزِّلُ عَلٰی عَبْدِہٖ اٰیٰتٍم بَـیِّنٰتٍ لِّـیُخْرِجَکُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ } 'وہی تو ہے جو اپنے بندے ﷺ پر یہ آیات بینات نازل کر رہا ہے تاکہ نکالے تمہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف۔' یعنی یقین والے ایمان کا منبع و سرچشمہ اللہ کی یہ کتاب ہے۔ اگر تم اس کتاب کو سمجھ کر پڑھو گے ‘ اس پر فکرو تدبر کرو گے تو تمہارے اندر ایک ہلچل برپا ہوجائے گی ‘ تمہاری روح کے تاروں میں خود بخود سرسراہٹ پیدا ہوگی اور تم خود محسوس کرو گے۔ خود حضور ﷺ کو بھی ایمان قرآن مجید ہی سے ملا :{ وَکَذٰلِکَ اَوْحَیْنَـآ اِلَـیْکَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا مَا کُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْکِتٰبُ وَلَا الْاِیْمَانُ وَلٰـکِنْ جَعَلْنٰـہُ نُوْرًا نَّہْدِیْ بِہٖ م

...

15

Comments

·

Comment

aap ka ek hi massage samjhme Aya mujhe ye itna lamba kya likhe ino

View more

اس آیات میں یہ یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ ایک دن تم نے خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے ، تمہارا حساب نہایت وقت کے ساتھ تیار ہوگا اور اس میں سے کوئی بات چھوٹی ہوئی نہ ہوگی۔ صحیح مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے' جب انسان مرجاتا ہے تو اس کے تمام عمل کٹ جاتے ہیں مگر تین عمل۔ علم جس سے نفع حاصل کیا جائے اور نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرے اور وہ صدقہ جاریہ جو اس کے بعد بھی باقی رہے۔' انسان مرنے سے پہلے اپنی زندگی میں جو اچھے برے اعمال آگے بھیجتا ہے وہ ساتھ ہی ساتھ اس کے اعمال نامے میں درج ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن انسان کے کچھ اعمال و افعال ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے اثرات اس کی موت کے بعد بھی اس دنیا میں رہتے ہیں۔ چناچہ یہاں پر 'آثار' سے مراد انسان کے ایسے ہی کام ہیں۔ بہر حال انسان کو آخرت میں ان 'آثار' کا بدلہ

...

3

Comments

·

Comment

Jazaak Allah khair

View more

اللہ کی یاد ذکرِ الٰہی انوار کی کنجی ہے، بصیرت کا آغاز ہے اور جمال فطرت کا اقرار ہے۔ یہ حصول علم کا جال ہے۔ یہ تماشہ گاہ ہستی کی جلوہ آرائیوں اور حسن آفرینیوں کا اقرار ہے۔ ذاکر کے ذکر میں زاہد کے فکر میں خالق ِ آفاق کی جھلک نظر آتی ہے۔ ذکر الٰہی دراصل خالق حقیقی سے رابطے کی ایک شکل ہے۔سورہ عنکبوت کی آیت 45 جو آج پوسٹ کی ہے، میں ارشاد ربانی ہے- 'اور یقین کرو کہ اللہ کا ذکر ہر چیز سے بزرگ تر ہے'۔ اللہ کے ذکر میں نماز، تلاوت ِ قرآن حکیم، دُعا اور استغفار سب شامل ہیں۔ان میں سب سے اہم جزو نماز کا ہے نماز سے متعلق کچھ ہلکے پھلکے سے احساسات اپ سے شیئر کرنا چاہوں گا کہ جب بندہ قدرتِ پروردگار کی خوبصورتی سے متاثر ہوتا ہے نہ تو اس وقت سجدے کا لطف اپنا ہی ہوتا ہے ، جب انسان کسی کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھ

...

1

Comment

·

Comment

جزاک اللہ خیر! ماشاءاللہ آپ نے ریفرنس شامل کیا. اللّٰه سبحانہ وتعالی کی یاد ہماری روح کو ذندہ رکھتی ہے۔ اللّٰه سبحانہ وتعالیٰ ہمیں توفیق دیں کے ہم احسن طریقے سے اللّٰه سبحانہ وتعالی کا ذکر اور شکر کریں.

View more

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم فَاِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ یُسۡرًا پس یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی ہے ۔ اِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ یُسۡرًا ؕ بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے ۔ میں جب پہلے اس آیات کو پڑھتی تھی تو مجھے سمجھ نہیں آتی تھی ایک لفظ کا سنا میں نے تدبر میں سوچ میں پڑھ گئی کے یہ کیا ہوتا ہے اور اسکے بارے میں جانا تو معلوم ہوا کے الفاظ پر غور کرنا ہے ۔الفاظ بولتا ہے بس وہ جو بول رہا ہے اسکو سمجھنا ہے اور سمجھنے کہ لیے اسکی گہرائی تک جانا ہوگا ۔الفاظ کو مختلف انداز سے سمجھنا ہوگا اسکے روٹ وورڈ اور معنی پہ رُک کر سوچنا ہوگا ۔اب جتنا میں سمجھ پائی ہوں وہ میں اِدھر بتانے جارہی ہوں ، العسر کا روٹ ہے ع-س-ر جسکی معنی ہے مشکل -بد حالی اور پھنس جانا ۔ عربی زبان میں 'ال' انگریزی لفظ کے 'Th

...

2

Comments

·

Comment

Waeyaka🌼

View more