بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم یہ سورت میرے دل کے بہت قریب ہے سورت کے آغاز میں راہنمائی کی گئ ہے کہ عبادت کے لیے کون سا وقت سب سے بہترین ہے اور ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ نفس کے لیے یہ مشکل بھی ہے پھر توحید کو بیان کر دیا اور پھر تسلی بھی دی کہ لوگوں کی باتوں سے پریشان نہ ہو بلکہ الله تعالی خود ان کو دیکھ لیں گے. شاید اسي لیےجب میں نے عملی زندگی میں قرآن کو تھاما تو یہی سورت میں نے سب سے پہلے سننی شروع کی اس وقت نہ تو قرآن پاک کے معنی آتے تھے پھر بھی یہ سورت سن کر سکون سامحسوس ہوتا تھا مجھے بھی اُس وقت راہنمائی اور تسلی کی ضرورت تھی جو اس سورت کی شکل میں رب نے فراہم کی جو میری توحید پر ثابت قدم رہنے کی وجہ بنی
Hammad Fahim
11mo agoAl-Muzzammil (73:1-11)
يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ
كان هذا النداء في مطلع الوحي، دعوةً للقيام بالليل، وتزكية النفس، وحمل الأمانة الإلهية
كانت سورة المزّمّل حجر الأساس في إعداد النبي ﷺ وهو يتلقّى مهمة الدعوة إلى الله، بقلبٍ مُستنيرٍ بنور الوحي
فمهمة البلاغ والإنذار لم تبدأ بوضع سياسات جديدة، ولا بصياغة كلمات الدعوة بعناية… بل بدأت بالخلوة مع القرآن في جوف الليل.
ويا لها من تذكرة لنا اليوم، في زمنٍ يعجُّ بالضوضاء والانشغال، بأن النهضة تبدأ في الساعات الخفيّة. {إن ناشئة الليل هي أشد وطأ وأقومُ قيلا} هي دعوة لنا: أن نجعل القرآن محورَ حياتنا ومنارَ دربنا.
يعلّمنا الله في هذه الآيات أن حمل رسالته يبدأ أولاً بتزكية النفس، والقيام، والتأمل والتضرع إلى الله في جوف الليل.
ففي تلك الساعات الهادئة يعيد الله بناء القلب
...
2 Comments
آمین جزاک اللہ خیرا کثیرا