کل سے سوچ رہی تھی کہ اپنی ریفلیکشن لکھوں، مگر ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ان دنوں مجھ سے بات ہی نہیں ہو پا رہی… یہاں تک کہ گھر والوں کے ساتھ بھی ایسے دن آئے کہ ہفتوں گفتگو نہیں کی۔ ایک عجیب سی خاموشی طاری ہو گئی تھی۔
دوسری وجہ یہ تھی کہ جب میں نے مختصر لکھا تو ایڈمن نے کہا: “یہ کیا؟ ذرا تفصیل سے لکھیں۔” پھر دل ہی نہیں چاہا کہ لکھوں… اور اگر چاہا بھی تو تفصیل سے لکھنا ممکن نہ ہو سکا۔
اس ساری تمہید کا مقصد بس یہ تھا کہ شاید آج بھی میں مختصر ہی لکھوں۔
کل سے میں نے سورۃ الکہف پڑھی ہے۔ باتیں ذہن میں تو آ رہی تھیں، مگر انہیں الفاظ میں ڈھالنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ :تو بات یہ ہے کہ جب میں نے یہ دونوں واقعات پڑھے تو مجھے ان دونوں بزرگ ہستیوں کی شخصیت میں ایک مشترک چیز نظر آئی— اور وہ یہ کہ وہ جہاں بھی جاتے، لوگوں کی مدد میں لگ جاتے، اور مسلسل اسی عمل میں مصروف رہتے۔
بظاہر یہ ایک سادہ سی بات لگ سکتی ہے، مگر میرے لیے یہ ایک نئی سیکھ تھی۔
میں نے یہ بھی محسوس کیا ہے کہ ہم بچوں کو یہ ذہنیت نہیں سکھاتے کہ وہ جہاں جائیں، یہ سوچیں کہ وہ کہاں اور کیسے اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں، کہاں کسی کے کام آ سکتے ہیں۔ بلکہ ہم اکثر یہ سکھاتے ہیں: "چپ کر کے بیٹھو، خبردار جو کچھ کہا یا کیا!"
پھر جب میں مسلم سائیکالوجی کے پیپر کی تیاری کر رہی تھی تو میرے سامنے ایک حدیث آئی، جس نے میری اس سوچ کو مزید مضبوط کر دیا:
حضرت ابنِ عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب لوگ وہ ہیں جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ہوں۔" (المعجم الاوسط للطبرانی: 6026) (صحیح — علامہ البانی کے نزدیک)
1 Comment
ماشاءاللہ آپکا یہ ریفلیکشن کسی کی بھی عملی زندگی میں داخل ہو سکتا ہے۔۔۔۔ So, carry on plz