Surah Ash-Sharh — Verse 1

**أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ**

**“Have We not expanded for you, [O Prophet], your chest?”** — *Surah Ash-Sharh (94:1)*

Surah Ash-Sharh begins with a question whose answer is already known:

**“Have We not expanded your chest for you?”**

Allah reminds His Messenger ﷺ of one of His greatest blessings: **the expansion and strengthening of his heart.** Scholars explain that this includes patience, guidance, certainty, faith, wisdom, and the strength to carry the great responsibility of Prophethood.

Allah says:

**“So whoever Allah wills to guide, He opens their heart to Islam. And whoever He wills to leave astray, He makes their chest tight and constricted, as though they were climbing up into the sky…”** — *Surah Al-An'am (6:125)*

Just as Allah expanded the heart of His Messenger ﷺ, He also made His religion spacious, gentle, practical, and possible to follow.

Some people believe that peace only comes after a difficulty has ended. But sometimes, true relief begins **before the difficulty is over**—when Allah starts making our hearts stronger, more patient, and more capable of carrying what once felt impossible.

Sometimes a hardship lasts for a long time, but before it even ends, Allah strengthens our hearts through His guidance and His Book. Then, even though the difficulty may still be present, we find ourselves able to carry its burden.

This was one of Allah's great blessings upon His Messenger ﷺ: He gave him the strength to face difficulties with patience, faith, and complete trust in Allah.

Islam does not teach us that every difficulty in life will simply disappear. Instead, it teaches us **how to face difficulties**—with faith in Allah, patience, prayer, and guidance from the Qur'an.

Because if one hardship ends, another challenge may eventually come. That is part of life. Therefore, Islam teaches us not only to ask Allah to remove our difficulties but also to ask Him to give us the strength to face them.

Although this verse was revealed specifically for the Prophet ﷺ, its message can bring comfort to all of us. The Qur'an is guidance for everyone who sincerely seeks guidance.

This verse reminds us of the blessing of having an **expanded and strengthened heart**—a heart that can carry burdens that once seemed impossible to bear.

The Prophet ﷺ said:

**“Indeed, there is a piece of flesh in the body: if it is sound, the whole body is sound, and if it is corrupt, the whole body is corrupt. Truly, it is the heart.”** — *Sahih al-Bukhari: 52; Sahih Muslim: 1599*

Today, whenever you feel worried, overwhelmed, or defeated, pause for a moment and recite this beautiful dua:

**رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي ۝ وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي**

**“My Lord, expand for me my chest and make my task easy for me.”** — *Surah Taha (20:25–26)*

Then reflect on your own life.

What circumstances are you going through right now? Are you seeking help from the Qur'an? Do you feel any change within yourself?

Remember, your goal is not only to solve the difficulty. You should also ask Allah to develop **patience, strength, and an expanded heart** within you.

Do not only pray:

**“O Allah, remove this hardship.”**

Also pray:

**“O Allah, as long as this hardship remains a part of my life, give me a strong and patient heart to carry it.”**

Take a moment to look back at your life:

**Have you ever gone through a difficult time when, even before the hardship ended, Allah had already made your heart stronger?** ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ - - - - -ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

اَلَمۡ نَشۡرَحۡ لَـكَ صَدۡرَكَۙ‏ کیا ہم نے آپ ﷺ کے لیے آپ ﷺ کے سینے کو کھول نہیں دیا ؟ــــسورہ الشرح [94:1]

سورہ الشرح ایک سوال سے شروع ہوتی ہے جس کا جواب ہمیں پہلے سے ہی معلوم ہے : ”کیا ہم نے آپ ﷺ کے لیے آپ ﷺ کے سینے کو کھول نہیں دیا ؟“ اللہ تعالیٰ اپنے رسولؐ کو سب سے پہلے ایک عظیم نعمت یاد دلاتے ہیں شرح علماء کہتے ہیں کہ اس میں آپؐ کا صبر ، ہدایت ، نبوت کی بھاری ذمہ داری دل کا ایمان ، یقین شامل ہے ۔ ابن کثیرؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اللہ نے آپؐ کا سینہ کھولا ، اسے نورانی اور کشادہ بنایا اور فرمان ہے: " تو اللہ جس کو ہدایت کے لیے نوازنا چاہتا ہے اُس کے سینے کو اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جس کو گمراہ کرنا چاہتا ہے اس کے سینے کو بلکل تنگ کر دیتا ہے گھٹا ہوا( گویا وہ اسیے محسوس کرتا ہے ) کہ گویا اُسے آسمان میں چڑھنا پڑ رہا ہے اس طرح اللہ ناپاکی مسلط کردیتا ہے ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے“ــــــ(قرآن 6:125) جیسے اللہ پاک نے آپؐ کا دل کشاادہ کیا اسی طرح آپ کی شریعت کو وسیع ، نرم ، کشادہ ، قابلِ عمل بنایا ۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ سکون صرف مشکل ختم ہونے کے بعد ملتا ہے لیکن اصل راحت تب ملنا شروع ہو جاتی ہے جب اس مشکل کے بدلے میں ہمارا دل مضبوط اور کشادہ ہونا شروع ہوتا ہے ۔ اور کبی کبھار مشکلات اتنی طویل ہوتی ہیں کہ ہمارا دل پہلے ہی قرآن پاک مضبوط کر دیتا ہے اور پھر اُن مصیبتوں کا بوجھ آسانی سے ہم اُٹھا لیتے ہیں ۔ یہ اللہ پاک کا آپؐ کے لیے بہت بڑا فضل ہے کہ آپ کو ہر مشکل کے ساتھ ، صبر اور اللہ پر ایمان کے ساتھ مشکلات کا سامنا کرنے والا بنایا ۔ اسلام نے کسی بھی پریشانی یا مشکل کو سِرے سے ختم نہیں کیا بلکہ اُسے اللہ پر ایمان اور صبر کے ساتھ سامنا کرنے کا سکھایا ہے ۔ کیونکہ اگر ایک مشکل ختم ہوگئی تو پھر اور آئے گی اسی کا نام زندگی ہے تو اسی لیے اسلام ہمیں قرآن ، اللہ پر یقین ، صبر کے ساتھ مشکلات کا سامنا کرنے کا حوصلہ دیتا ہے ۔ یہ آیت خاص آپؐ کے لیے نازل ہوئی مگر ہم اس کو سمجھیں تو ہماری زندگیا بھی آسان ہو سکتی ہیں کیونکہ قرآن ہر اس انسان کے لیے ہے جو ہدایت پانا چاہے ۔ یہ آیت دل کے لفظ سے شروع ہوتی ہے کیونکہ اس کا حاصلِ کلام یہی ہے کہ اللہ پاک کے نعمت ہے یہ کشادہ دلی بھی کہ ہم اُن چیزوں کو بھی بوجھ اُٹھاتے ہیں جو ہمیں ناقابلِ شکست معلوم ہوتی ہیں ۔ حدیث: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”خبردار! جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے۔ اگر وہ درست ہو جائے تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے، اور اگر وہ خراب ہو جائے تو پورا جسم خراب ہو جاتا ہے۔ خبردار! وہ دل ہے۔“ـــ(صحیح بخاری: 52؛ صحیح مسلم: 1599) آج جب آپ خود کو پریشان یا مغلوب محسوس کریں تو ایک لمحہ رک کر یہ دعا پڑھیں: رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي ، وَيَسِّرۡ لِىۡۤ اَمۡرِىْ ۙ‏ ( موسیٰ ؑ ٰ نے عرض کیا : اے میرے پروردگار ! میرے لیے میرے سینے کو کھول دے (25) اور میرے اس کام کو میرے لیے آسان کر دے (26)ـــــــــــ سورہ طه [20:25-26] پھر آپ اپنی زندگی پر غور کریں کہ آپ کن حالات سے گزر رہے ہیں ، اور کیا آپ قرآن سے مدد لے رہے ہیں ، آپ کو تبدیلی محسوس ہورہی ہے ، آپ نے صرف مشکل کو حل نہیں کرنا بلکہ اپنی کشادہ دلی اور صبر کو بھی یقینی بنانا ہے ۔ اور صرف مشکلات ختم ہونے کی دعا نہ کرے بلکہ یہ فریاد کرے بارگاہِ رب العزت میں کہ جب تک یہ پریشانی زندگی کا حصہ ہے آپ اسے مضبوط دل کے ساتھ اُٹھاتے رہیں ۔ اپنی گزشتہ زندگی پر غور کرے کہ کبھی آپ کسی مشکل میں ہو اور اُس مشکل کے ختم ہونے سے پہلے ہی اللہ پاک نے آپ کا دل مضبوط کر دیا ہو ؟؟

·

3 Comments

to comment on this Reflection

میں نے کبھی ایسے لوگوں کو بھی دیکھا ہے جن پر آزمائش آتی ہے لیکن جس خوبصورتی اور صبر سے وہ اس سے گزرتے ہیں وہ کمال ہے ۔ اور شاید اس کو بھی سینہ کھولنا کہتے ہیں واللہ اعلم ۔ جزاک اللہ خیرا اختی، بہت اچھی ریفلیکشن ہے اللہ آپ سے راضی ہوں۔

1 likes

Related Reflections