الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

"بہڑا مہربان، نہایت رحم والا" ایک دن کلاس میں سر نے نماز کا ترجمہ پڑھاتے ہوئے سوال کیا کہ ' الرحمٰن ، اور ' الرحیم ' کا مطلب ایک ہی بنتا ہے رحم کرنے والا یا مہربان ۔۔ مطلب ایک ہی بات ہے کہ اللہ پاک اپنی مخلوق پر مہربان ہیں یا رحم کرنے والے ہیں ، تو پھر یہ 2 دفع کیوں ذکر کیا گیا ، میرے ذہن میں خیال آیا کہ جب قرآن پاک میں کہیں تکرار آئے تو مطلب وہ اہم بات ہے اسی لیے اسے دہرایا جاتا ہے اور اس کی اہمیت کے اللہ پاک اُس پر زور دیتے ہیں ۔۔ کہ یہ اہم بات ہے اس پر عمل کرو۔۔ مجھے یہی لگا تھا کہ ایسا ہی ہوگا ۔ بہر حال سر بے بھی نہیں بتایا کہ بات لمبی ہے پھر کبھی مگر میں نے بھی زیادہ نہیں سوچا۔۔ پھر جب میں گھر آئی تو میں یونہی سٹیس دیکھ رہی تھی تو میری ایک معلمہ نے وہی سٹیس لگایا ۔۔ میں کافی حیران ہوئی کہ کیا اتفاق ہے ، ابھی سوال کیا تھا سر نے ، اللہ پاک نے وسیلہ بنا کر جواب دے دیا ۔۔ اس میں لکھا تھا ۔۔ کہ ' الرحمٰن ، اور ' الرحیم ' کا مطلب ایک ہی معلوم ہوتا ہے مگر ان میں فرق ہے

الرَّحْمٰن: یہ "فَعْلَان" کے وزن پر ہے، جس میں جوش، مبالغہ اور وسعت پائی جاتی ہے۔ اس کا مطلب ہے "بے انتہا رحم کرنے والا"۔ ایسی رحمت جو پوری کائنات پر محیط ہے، جس سے مومن، کافر، انسان، حیوان اور چرند پرند سب فائدے اٹھا رہے ہیں۔ الرَّحِيْم: یہ "فَعِيْل" کے وزن پر ہے، جس میں تسلسل، دوام اور ہمیشگی پائی جاتی ہے۔ اس کا مطلب ہے "ہمیشہ رحم کرنے والا"۔ یہ وہ خاص رحمت ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگی اور یہ بنیادی طور پر آخرت میں صرف ایمان والوں کے لیے ہوگی۔

مطلب " الرحمٰن کا مطلب ہے کہ دنیا کی ہر مخلوق پر رحم کرنے والا ہے ، وہ گنہگار ، کافر ، یہودی ، عیسائی ، کوئی بھی فرقہ ، مذہب ، جانور ، پرندے ،، نیز سب پر رحم ہے ۔۔ بے شک اللہ پاک نہایت رحم کرنے والے ہیں ۔۔ اللہ پاک کی رحمت اس کے عذاب سے کہیں وسیع ہے ۔۔ اب بات کرتے ہیں "الرحیم کی ۔ اس کا مطلب خاص ہے مطلب یہ اس کا مفہوم قیامت کے لیے ہے ۔۔ اللہ پاک خاص قیامت کے دن اہل ایمان پر اپنارحم دکھائیں گئے ۔ اس دن اعمال کرنے والوں کو جزا مل جائے گی ۔۔ اور میرا رحیم مالک اپنا رحم کا معجزہ دکھائیں گئے ۔

تفسیری حوالہ جات (تفسیر ابن کثیر)

امام ابن کثیر نے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب تفسیر ابن کثیر (سورہ الفاتحہ، آیت 1 کی تفسیر) میں سلف صالحین کے اقوال نقل کرتے ہوئے اس فرق کو واضح کیا ہے: • انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے منسوب ایک اثر نقل کیا ہے کہ:"والرحمن رحمٰن الدنيا والآخرة، والرحيم رحيم الآخرة" ترجمہ: "الرحمن سے مراد دنیا اور آخرت (دونوں) میں رحم فرمانے والا ہے، اور الرحیم سے مراد آخرت میں رحم فرمانے والا ہے"۔ • ابن کثیر مزید لکھتے ہیں کہ رحمن میں رحیم کے مقابلے میں زیادہ مبالغہ (شدت اور وسعت) پایا جاتا ہے۔

2. لغوی اور اوزان کا حوالہ (امام ابن قیم اور علامہ ابن عثیمین)

عربی گرامر (نحو و صَرف) کی رو سے اوزان کا یہ فرق علامہ ابن قیم اور شیخ محمد بن صالح العثیمین نے واضح کیا ہے: • بدائع الفوائد (ابن قیم): امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ صفتِ "رحمن" اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ قائم صفت (موصوف کی ذات کی وسعت) کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ "رحیم" اس رحمت کے مخلوق تک پہنچنے اور اس کے تعلق (فعل) کو ظاہر کرتی ہے۔ • تفسیر ابن عثیمین: شیخ ابن عثیمین فرماتے ہیں کہ عربی زبان میں "فَعْلَان" (جیسے رحمن) کا وزن وسعت اور سحر/امتلاء (کسی چیز سے بھرے ہونے) پر دلالت کرتا ہے، جیسے غصے سے بھرے ہوئے شخص کو "غَضْبَان" کہا جاتا ہے۔ جبکہ "فَعِيل" (جیسے رحیم) کا وزن فعل اور اثر پر دلالت کرتا ہے کہ وہ رحمت اب مخلوق تک پہنچ رہی ہے۔

3. قرآن مجید سے استدلال (رحمتِ خاصہ کا ثبوت)

مفسرین (جیسے ابو علی فارسی) اس بات کی دلیل کہ "رحیم" مومنوں کے لیے خاص ہے، قرآن کی ان آیات سے دیتے ہیں جہاں لفظ "رحیم" استعمال ہوا ہے: • سورہ الاحزاب (آیت 43): وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا ("اور وہ مومنوں پر ہمیشہ بہت مہربان/رحیم ہے")۔ • قرآن مجید میں جہاں بھی صفتِ رحیم اکیلی آئی ہے، وہاں اکثر اس کا تعلق ایمان والوں پر خصوصی فضل و کرم سے جڑا ہوا ہے۔ ان تمام مستند حوالوں کو آپ تفصیلی مطالعہ کے لیے تفسیر ابن کثیر اردو یا جامعہ بنوری ٹاؤن فتاویٰ پر دیکھ سکتے ہیں جہاں رحمن اور رحیم کے لغوی فرق کو بالتفصیل واضح کیا گیا ہے۔@

Basit Minhas

ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ (٣)

the Most Compassionate, Most Merciful, (3)

·

4 Comments

to comment on this Reflection

جزاک اللہ خیرا اختی، اللہ تعالیٰ آپ کا تدبر قبول فرمائیں اور ہمیں نماز کر دوران سورۃ الفاتحہ پڑھتے ہوئے ان الفاظ کی سمجھ سے خشوع ملے ۔ آمین

Related Reflections