بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔  بحر و بر میں جو کچھ ہے سب سے وہ واقف ہے ۔  درخت سے گرنے والا کوئی پتہ ایسا نہیں جس کا اسے علم نہ ہو ۔  زمین کے تاریک پردوں میں کوئی دانہ ایسا نہیں جس سے وہ باخبر نہ ہو  ۔  خشک و تر سب کچھ ایک کھلی کتاب میں لکھا ہوا ہے ۔ ترجمہ: سید ابو الا علی مودودی اس آیت کو پڑھ کر اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ اللہ کی رحمتیں کتنی وسیع ہیں، پھر چاہے وہ نباتات ہوں یا جمادات، حیوانات ہوں یا انسان، کوئی بھی چیز ایسی نہیں جس سے اللہ تعالیٰ مخفی ہو۔ زندگی میں بہت سے موقعے ایسے بھی آتے ہیں جب ہم مصائب ومشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جب حالات کی زنجیریں ہمیں جکڑ دیتی ہیں۔ جب ہم شکوے اور شکایتیں بھی کرتے ہیں اور ایسے میں دل میں بے بسی کی کیفیت سر اٹھانے لگتی ہے۔ جب حالات اس طرح سے تنگ ہونے لگے، تب ایک بات کو خاطر میں لانا ضروری ہے کہ چاہے ہم پر حالات کتنے ہی کیوں نہ سخت ہو جائیں، چاہے ہم اندر سے کتنا ہی ٹوٹ جائیں، چاہے ہمیں اپنے پیارے نہ سمجھ سکیں یا پھر چھوڑ جائیں، ایسے میں صرف اس بات کا یقین بھی کہ اللہ تعالیٰ واقعی 'لطیف اور خبیر' ہے، ہمارے دلوں کو سکون و اطمینان سے لبریز کر سکتا ہے۔ کیونکہ اللہ باریک بین ہے وہ ہمارے حالات، ہمارے دلوں میں پیدا ہوتے احساسات اور ذہن میں بُنتے خیالات کی پیچیدگیوں کو سمجھتا ہے اور وہ ہمیں ہر کسی سے بہتر جانتا ہے۔ کیونکہ چاہے کسی انسانی وجود کا ہمیں سہارا ہو یا نہ ہو، اللہ کا سہارا ہمیشہ قائم و دائم رہتا ہے۔ شاید ہی کبھی ہمیں کوئی قریبی انسان اس طرح سمجھ سکے جس طرح اللہ سمجھ سکتا ہے۔ یا شاید ہی ہم کبھی کسی کے سامنے پوری طرح اپنی ذہنی اور دلی کیفیات کا اظہار کر سکیں جس طرح ہم اللہ کے سامنے کر سکتے ہیں۔ وہ تو ہماری خاموشیوں کی زبان کو بھی سمجھ لیتا ہے۔ جب اِک گرتے ہوئے پتے اور تاریکی میں پڑے دانے سے یہ لطیف اور خبیر ذات با خبر ہے تو وہ ہمارے دلوں سے کیسے مخفی رہ سکتا ہے؟ اس خوبصورت بات کا احساس بھی اگر ہمیں ہو جائے تو ہم بہت سی ذہنی پریشانیوں سے خود کو بچا سکتے ہیں۔ اللہ پر توکل وہ غنچہ امید ہے جو مشکلات میں بھی انسان کو کِھلنا سکھا دیتا ہے ۔ اللہ ہم سب کے ایمان، امید اور توکل کو مضبوط رکھے۔آمین

·

8 Comments

to comment on this Reflection

Jazaak Allah khair

Related Reflections