بسم اللہ الرحمٰن الرحیم زندگی نشیب و فراز کا مجموعہ ہے اور اس میں پیش آنے والے حالات ہماری سوچ بوجھ کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ کبھی ہم سب کچھ کے ہوتے ہوئے بھی امید اور ہمت کھو دیتے ہیں۔ اور کبھی کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی یقین کے ساتھ آگے بڑھتے اور کوشش کرتے ہیں۔ سوچ کا یہ زوایہ ہماری زندگیوں کو نکھرتا بھی ہے اور بکھیرتا بھی ہے۔ یہ آیت ہمیں مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھنے کا سبق دیتی ہے۔  اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی مشکل پیش آتی ہے تو ہم پہلے ہی یہ سمجھتے ہیں کہ یہ معاملہ تو ہمارے بس سے باہر ہے اور اسی طرح ہم صرف یہ سوچ کر کوشش کرنا چھوڑ دیتے ہیں کہ ہماری تو اتنی وسعت ہی نہیں کہ ہم اس سے ڈیل کرسکیں۔ یہ چیز انسان کو ناامیدی سے ہمکنار اور خود سے درکنار کردیتی ہے۔ اور اس سے بڑی بےبسی ہو نہیں سکتی۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ ایک طرح سے ہماری صلاحیتوں اور قوتوں کو تسلیم کرتے ہیں جس کو اکثر ہم درگزر کر دیتے ہیں۔ زندگی میں ایسے موقعے ضرور آتے ہیں جب انسان بےبس محسوس کرتا ہے، جب امید ماند پڑنے لگتی ہے لیکن مشکلات بڑھ جائیں تو اللہ ہمت بھی بڑھا دیتا ہے۔ اگر ہم اس بات کو سمجھ لیں کہ اللہ ہمیں ہماری ہمت سے زیادہ نہیں آزماتے یا بوجھ ڈالتے، تو ہماری مشکلات کی ڈوریاں سلجھ جائیں، ہماری ہمت کبھی نہ ٹوٹے۔ کیونکہ زندگی کی سختیاں انسان کی صلاحیتوں کو تراش دیتی ہے اور خود کو پہچان لینے کا موقع دیتی ہے۔ اور جب انسان خود کو پہچان جائے تو اس کے اندر یہ اعتماد پیدا ہو جاتا ہے کہ کوئی بھی مشکل یا آزمائش اس سے بڑی نہیں اور یہی چیز انسان کے قوت اور صبر کی بنیاد بنتا ہے۔ حالات کا سامنا کرنے کے لیے ہمت بڑھاتا ہے۔ یقین اور توکل انسان کا وہ اثاثہ ہے جو اسے دشواریوں تلے دبنے نہیں دیتا، حالات کا اسیر نہیں بناتا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے جڑے رکھے۔آمین جو یقین کی راہ پر چل پڑے' انہیں منزلوں نے پناہ دی جنہیں وسوسوں نے ڈرا دیا 'وہ قدم قدم پہ بہک گئے

·

3 Comments

to comment on this Reflection

Jazaak Allah khair

Related Reflections